ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ ؛ وزیر اعظم کا اعلان

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ ؛ وزیر اعظم کا اعلان
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42:  وزیراعظم شہبازشریف نے قوم سے خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے کہا پاکستان دو محاذوں پر اہم ترین کردار ادا کررہا ہے۔وفاقی  حکومت نے ایک مرتبہ پھر خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا حجم 56 ارب روپے بنتا ہے یعنی اس ہفتے میں مزید 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ وفاقی حکومت خود برداشت کرے  گی ۔
 وزیراعظم نے کہا تیل کی قیمتوں کے قیامت خیز اضافے سے بچانے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں ،اجتماعی مشاورت سے پائیدار امن کی راہ ہموار کرنے کیلئے کوشاں ہیں ،
خطے میں امن کیلئے ایران اور خلیجی ممالک کی قیادت سے تفصیلی گفتگو کی ۔دنیا ایک غیر معمولی اور مشکل ترین صورتحال سے گزر رہی ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا سفارتی  محاذ  پر امن کے قیام کے لیے دن رات متحرک ہیں۔ اس جنگ کو رکوانے کے لیے پاکستان سفارتی سطح پر سالسی کی بھرپور اور پرخلوص کوششیں کر رہا ہے تاکہ خطہ اور برادر اسلامی ممالک تباہ کن جنگ اور اس کے منفی اثرات سے نجات پائیں اور اجتماعی مشاورت اور دانشمندی سے پائیدار امن کی راہ ہموار ہو سکے۔ میرے بھائیو اور بہنوں پاکستان کی سفارتی کوششیں محض ایک بین الاقوامی سفارتی ذمہ داری نہیں بلکہ خارزتا اللہ تعالی کی رضا اور امت مسلمہ کے بہترین مفاد کے لیے ہیں ہم سب ایک خدا ایک رسول اور ایک قران پر ایمان رکھتے ہیں اس لیے خواہ کوئی کسی بھی مکتبہ فکر یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو بطور مسلمان سب کے دل میں امن کی تمنا یکساں ہے اسی تناظر میں میں نے متعدد مرتبہ ایران اور خریدی ممالک کے سربران کے ساتھ تفصیلی گفتگو کی۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار صاحب پوری محنت اور خلوص کے ساتھ ان کاوشوں میں مصروف عمل  فیْلڈ  مارشل  سید عاصم  منیر اس مقام کی عمل کی کامیابی کے لیے نہایت اہم  اور قریبی کردار ادا کر رہے ہیں  اپ س کو  سبسڈی دے دی ہے درخواست ہے کہ ان کاوشوں کی کامیابی کے لیے اللہ تعالی کے حضور دعا فرمائیں

میرے بزرگو بھائیو اور بہنوں دنیا اس وقت ایک غیر معمولی اور مشکل ترین صورتحال سے نمبر ازما ہے جہاں بڑی بڑی معیشتیں بے بسی کی خاموش تصویر بنی ہوئی ہیں ترقی یافتہ ممالک جن کے پاس وسائل کے انبار ہیں اج وہ بھی شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں ایسے حالات میں اس بات کا اندازہ لگانا کوئی مشکل کام نہیں کہ پاکستان پر اس معاشی بوجھ کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے تھے لیکن اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم نے اس طوفان کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے ہی سے تیاری شروع کر رکھی تھی ۔ 

فوری طور پر وہ فیصلے کیے جو ہرگزآسان نہیں تھے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی اور ساتھ ہی اور کفایت جاری کی مہم سے ایک ایک پیسہ بچا کر اربوں روپے عام ادمی پر معاشی دباؤ کم کرنے کے لیے وقف کر دیے تاکہ تاریخ کی اس مشکل گھڑی میں جہاں تک ممکن ہو سکے۔ آپ کی حکومت عوام کو ان مشکلات سے بچانے کے لیے حتیٰ المقدور وسائل اپ کے قدموں میں نچھاور کرے۔

میرے بزرگو بھائیوں اور بہنوں اپ پر یہ حقیقت اچھی طرح اشکار ہو چکی ہوگی کہ اج جب آپ اپنی گاڑی یا موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلواتے ہیں تو ہر ایک لیڈر کے پیچھے حکومت کی بچت کی پالیسیاں اور احساس ذمہ داری کی جھلک موجود ہوتی ہے۔ میرے بزرگو بھائی اور بہنوں یہ ہفتہ تو  آج شروع ہو رہا ہے اس میں بھی مجھے پٹرول پر فی لیٹر 95 روپے اور ڈیزل پر فنگ لیٹر 203 روپے اضافہ کرنے کی تجویز نہیں جیسے میں نے اپ کی مشکلات کے پیش نظر ایک بار پھر مسترد کر دیا ہے اور یہ بوجھ وفاقی  حکومت نے ایک مرتبہ پھر خود اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا حجم 56 ارب روپے بنتا ہے یعنی اس ہفتے میں مزید 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی اور اپ کو یہ فوج نہیں اٹھانا پڑے گا

 میرے بزرگو بھائیوں اور بہنوں قیمت دیکھی جائیں آج کے دن پاکستان میں پٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے لیکن اپ اسے صرف 322 روپے میں حاصل کر رہے ہیں اسی طرح  ڈیزل کی قیمت بھی اج کے دن پاکستان میں 790 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی لیکن حکومت اپ کو ڈیزل صرف 335 روپے فی لیٹر فراہم کر رہی ہے تاکہ اپ پر مزید بوجھ نہ پڑے اور اپ کی مشکلات میں مزید اضافہ نہ ہو۔

 میرے بزرگو بھائیوں اور بھائیوں قیمتوں کے یہ اعداد و شمار سننے میں گفتگو کرنے میں شاید گنتی لگتے ہوں لیکن حقیقت میں متواتر تین ہفتوں کے اندر 125 ارب روپے کا یہ تاریخی بوجھ اپ کی حکومت نے اپنے کاندھوں پر بٹھایا ہے تاکہ اپ کے کندھے اس بوجھ سے نہ جھکنے پائیں اور یہ خطیر رقم اپ کی فلاح کے کئی بڑے منصوبوں کی تعمیر کے لیے استعمال ہو سکتی تھی لیکن اس لمحے مجھے اپ کی معاشی طاقت سے زیادہ اور کچھ عزیز نہیں

 میرے بزرگ و بھائیوں اور بہنو ں آج وہ لمحہ ا چکا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ زندگی میں انقلابی تبدیلیاں فل فور لے کر ائیں سفر کرنے سے پہلے سوچیں کہ کیا یہ سفر ضروری ہے کیا ہر بار گاڑی یا موٹر بائیک کو نکالنا ضروری ہے میرے عزیز اہل وطن کفایت جاری اب اختیاری نہیں بلکہ ہماری مشترکہ ذمہ داری بن گئی ہے دنیا بھر کے ممالک میں قیمتیں دو گنا ہو چکی ہیں اور وہاں پر پٹرول پمپ پر عوام کی لمبی لائنیں لگ چکی ہیں اور قیمتیں عوام کے بس سے باہر اور وہ حکومتیں بے بس ہو چکی ہیں لیکن اپ کی حکومت نے اپنے انتہائی محدود وسائل کے باوجود بروقت اور موثر اقدامات سے مہنگائی کے اس طوفان کو اب تک اپ تک پہنچنے سے روک رکھا ہے لیکن میرے بزرگو بھائی اور بہنوں یہ جدوجہد حکومت اکیلی نہیں کر سکتی میں اکیلا نہیں کر سکتا لہذا اج میری اپ سے ایک ہمدرد کے طور پر اور خلوص درخواست ہے کہ اس مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کے لیے جو جامع منصوبہ ہم بنا رہے ہیں اس میں بھرپور تعاون کریں جس کا اعلان انشاءاللہ ائندہ چند دنوں میں کیا جائے گا عزیز اہل وطن اللہ تعالی کے بے پایاں فضل و کرم اور قوم کے باہمی اتحاد 57 سے ہم اس طوفان بلا خیز سے سرخرو ہو کر نکلیں گے انشاءاللہ اللہ تعالی ہمارے وطن کو تا قیامت عزت اور وقار کے ساتھ سلامت رکھے 

وزیر اعظم نے مظفر وارثی کے اشعار بھی پڑھے 

جب اپنا قافلہ عزم و یقیں سے نکلے گا
جہاں سے چاہیں گے رستہ وہیں سے نکلے گا

وطن کی ریت ذرا ایڑیاں رگڑنے دے
مجھے یقیں ہے کہ پانی یہیں سے نکلے گا

 پاکستان پائندہ باد