ویب ڈیسک : ایف آئی اے نے لیبیا کشتی حادثہ 2023 میں ملوث ریڈ بک کے انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر سمیت 2 ایجنٹس کو گرفتارکرلیا۔
ترجمان ایف آئی اے گوجرانوالہ زون کے مطابق ملزموں کی شناخت محمد پرویز اور عمران صابر کے نام سے ہوئی، جنہیں گجرات اور گجرانوالہ کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا، ملزم پرویز کا نام انتہائی مطلوب اسمگلرز کی فہرست میں شامل ہے، گرفتار ملزم ریڈ بک کا مطلوب انسانی اسمگلر اور لیبیا کشتی حادثہ کا اہم ملزم ہے جس کا تعلق گجرات سے ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزم کمپوزٹ سرکل گجرات میں درج متعدد مقدمات میں نامزد ہے، گرفتار ملزم سادہ لوح شہریوں کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھجوانے میں ملوث پایا گیا، ملزم کو چھاپہ مار کارروائی میں لوکڑی ملاں گجرات سے گرفتار کیا گیا، ملزم کا نام سال 2023 سے ریڈ بک کے انتہائی مطلوب انسانی اسمگلرز کی فہرست میں شامل ہے، ملزم نے شہریوں کو اٹلی بھجوانے کی غرض سے فی کس 30 لاکھ روپے بٹورے، ملزم متاثرہ شہریوں کو بیرون ملک ملازمت کا جھانسہ دے کر لیبیا کے راستے غیر قانونی طور پر یورپ بھجوانے میں ملوث پایا گیا، متاثرہ شہریوں کو لیبیا میں بنائے گئے سیف ہاؤسز میں محصور کر کے شہریوں کے خاندان سے تاوان کا مطالبہ کرتا تھا، تاوان نہ ملنے پر متاثرہ شہریوں پر تشدد بھی کیا جاتا تھا۔ یورپ سفر کے دوران مسافر کشتی کو حادثہ پیش آ گیا جس میں متعدد پاکستانیوں کی موت واقع ہوئی۔
ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ چھاپہ مار کاروائی کے دوران ملزم سے 12عدد پاکستانی پاسپورٹ بھی برآمد ہوئے، ملزم پاسپورٹ برآمدگی کے حوالے سے تسلی بخش جواب نہ دے سکا جسےگرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملزم عمران صابر نے شہری کو سعودی عرب ملازمت کا جھانسہ دے کر 4 لاکھ 10 ہزار روپے بٹورے، ملزم شہریوں کو بیرون ملک بھجوانے میں ناکام رہا اور روپوش ہو گیا، ملزمان کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔