ابوبکر ارشد: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے منتظر عوام کو اس بار بھی ریلیف نہ مل سکا، حکومت نے آئندہ مدت کے لیے پٹرول اور دیگر مصنوعات کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
سوشل میڈیا پر پٹرول سستا ہونے سے متعلق گردش کرنے والی خبریں بھی غلط ثابت ہوئیں، جس کے بعد شہریوں میں مایوسی دیکھی گئی۔
عوام کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور عالمی صورتحال میں بہتری کے بعد پٹرول کی قیمتیں ایران امریکا تنازع سے پہلے والی سطح پر واپس آنی چاہئیں۔
شہریوں نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ گزشتہ ہفتے پٹرول کی قیمت میں کمی کے باوجود مارکیٹ میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کوئی نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی، جس سے عام صارف کو ریلیف نہیں مل سکا۔
متعدد شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ جائزے میں حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کا اعلان کرے گی تاکہ مہنگائی کے دباؤ میں کچھ کمی آ سکے۔
دوسری جانب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں سے متعلق جاری بحث کے دوران وفاقی حکومت نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قیمتوں کے تعین میں توازن اور عالمی حالات کو مدنظر رکھا جا رہا ہے، جبکہ صارفین تک ممکنہ ریلیف پہنچانے کی کوشش جاری ہے۔
وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حکومت نہ کسی مخصوص شعبے کو ترجیح دے رہی ہے اور نہ ہی کسی دوسرے طبقے پر غیر ضروری مالی بوجھ ڈالنے کی پالیسی اختیار کر رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت بین الاقوامی ذمہ داریوں اور معاشی تقاضوں کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام تک ہر ممکن فائدہ منتقل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں اب تک ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں مجموعی طور پر 200 روپے فی لیٹر کمی کی جا چکی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 155 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق رواں ہفتے عالمی منڈی میں پیٹرول کی پلیٹس قیمت 98 اعشاریہ 35 ڈالر سے کم ہو کر 91 اعشاریہ 68 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پلیٹس قیمت 109 اعشاریہ 09 ڈالر سے 104 اعشاریہ 79 ڈالر فی بیرل کے درمیان ریکارڈ کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت عالمی قیمتوں اور ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کر رہی ہے تاکہ صارفین اور مختلف شعبوں کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔