ملک اشرف:لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کے ساتھ مربوط بائیو میٹرک تصدیقی نظام مکمل طور پر فعال کر دیا ہے، جس کے تحت اب مقدمات دائر کرنے سے قبل سائلین کی شناختی تصدیق لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
یہ اقدام چیف جسٹس عالیہ نیلم کی زیر قیادت عدالتی نظام میں جدید ڈیجیٹل اصلاحات کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد جعلی شناخت، فرضی ضمانت ناموں اور فراڈ مقدمات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
نئے نظام کے مطابق مقدمہ دائر کرنے سے قبل درخواست گزار کی ٹی آئی ڈی (TID) اور بائیو میٹرک ویری فکیشن لازمی ہوگی۔ نادرا سے تصدیق کے بعد جاری ہونے والی ویری فکیشن رسید 72 گھنٹوں تک مؤثر رہے گی۔
لاہور ہائیکورٹ، ضلعی اور تحصیل عدالتوں میں مجموعی طور پر 245 خصوصی تصدیقی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جبکہ ملک بھر میں 20 ہزار سے زائد ای سہولت مراکز کے ذریعے بھی بائیو میٹرک تصدیق کی سہولت دستیاب ہوگی۔
عدالتی حکام کے مطابق پنجاب کی جیلوں میں زیرِ سماعت قیدیوں کی بائیو میٹرک تصدیق بھی لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ عدالتی نظام میں شفافیت اور سکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی جمال احمد کی سربراہی میں تیار کردہ اس جدید سافٹ ویئر سسٹم کو عدالتی کارروائی میں جعلی شناخت اور غیر قانونی رسائی کو محدود کرنے کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔