صحافیوں پر بڑی پابندی عائد، نئی میڈیا پالیسی جاری

صحافیوں پر بڑی پابندی عائد، نئی میڈیا پالیسی جاری

(علی ساہی) صحافی بغیر اجازت کرائم سین کی کوریج اور تھانوں میں کریمنلز کا انٹرویو نہیں لے سکیں گے، چھوٹے رینک کے افسران کو میڈیا سے گفتگو سے بھی روک دیا گیا، آئی جی پنجاب کی جانب سے بجھوائی گئی نئی میڈیا پالیسی وزیراعلیٰ پنجاب نے منظور کرلی۔

پنجاب حکومت کی جانب سے نئی میڈیا پالیسی جاری کردی گئی ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کو نئی پالیسی پرعملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دے دیا، نئی میڈیا پالیسی کے مطابق پروگرامز میں پولیس کی وردی کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ یونیفارم کی خلاف ورزی کرنے پر پیمرا سے رابطہ کیا جائے گا، چھوٹے رینک کے افسران بھی میڈیا سے گفتگو نہیں کرسکیں گے، اس حوالے سے سی پی او میں پولیس انفارمیشن اینڈ میڈیا سیل قائم کردیا گیا ہے جو پولیس کی خبروں کے حوالے سے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ کرے گا، سیل میں تمام آرپی اوز، ڈی پی اوز کے پی آر اوز کو ٹریننگ دی جائے گی۔

 پالیسی کے مطابق ڈی پی اوز، آر پی اوز، ڈی پی آر اپنا بیان دیں گے، ایمرجنسی حالات میں آر پی اوز، ڈی پی اوز بطور فوکل پرسن کام کریں گے اور بڑے حادثے پر بھی آئی جی کے ڈائریکٹر پبلک ریلیشن کیساتھ کوآرڈینشن سے بیان دینگے، جبکہ پولیس سے متعلق غلط خبر چلانے والے کیخلاف متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے گا، صحافی پر بغیر اجازت پولیس سٹیشنز میں کریمنلز کے انٹرویو کرنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے جبکہ کرائم سین کی فوٹیج بنانے کی بھی اجازت نہیں ہوگی، ریاست یا قانون نافذ کرنیوالے ادارے کیخلاف غلط خبر چلانے پر سائبر کرائم سے رجوع کیا جائے گا۔