سٹی 42: بھارتی سپریم کورٹ نے طلباء کی حالیہ تحریک کے دوران مظاہرین کے خلاف پولیس کی بربریت پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ صرف تحریک چلائے جانے کی بنیاد پر لاٹھی چارج نہیں کی جا سکتی ہے۔ اس سے قبل 3 دنوں پہلے بھیجے گئے خط پر چیف جسٹس نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں بننے والے بنچ نے یہ تبصرہ آج اُس وقت کیا جب بھارت کے مختلف حصوں میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے متعلق درخواستوں کا ذکر اُن کے سامنے کیا گیا۔ ان میں ایک عرضی اُن طلبہ کے ایک گروپ کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جنہوں نے الزام لگایا ہے کہ احتجاج کے دوران پولیس نے اُن کے ساتھ مارپیٹ کی۔ ایک دوسری عرضی میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ بہار کے سیوان میں مظاہرین کے خلاف اے کے-47 رائفل کا استعمال کیا گیا۔ اس پر عدالت نے کہا کہ پولیس کے ذریعہ طاقت کے استعمال کے الزامات کی آزادانہ جانچ ہونی چاہئے۔
رپورٹس کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھنے والے وکیل نے اب اسی معاملے پر مفادِ عامہ کی درخواست بھی دائر کر دی ہے۔ اس سے قبل 3 دنوں پہلے بھیجے گئے خط پر چیف جسٹس نے کوئی نوٹس نہیں لیا تھا۔ درخواست گزار پریا مشرا کی جانب سے ایڈووکیٹ نریندر مشرا کے ذریعہ دائر مفاد عامہ کی درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ مدعا علیہان کو حکم دیتے ہوئے مینڈیمس کی رٹ جاری کرے۔ اس کے تحت متعلقہ واقعات سے جڑے تمام الیکٹرانک اور ڈیجیٹل شواہد کو فوری طور پر محفوظ رکھنے اور ریزرو کرنے کی ہدایات دی جائیں۔ ان میں سی سی ٹی وی فوٹیج، باڈی وارن کیمرہ فوٹیج، ڈرون فوٹیج، موبائل فون ریکارڈنگ، سوشل میڈیا پر دستیاب ویڈیو اور پوسٹ، پولیس وائرلیس اور مواصلاتی ریکارڈ، کال لاگ، کنٹرول روم ریکارڈ، تعیناتی سے متعلق ہدایت، جی پی ایس ریکارڈ اور دیگر سبھی متعلقہ الیکٹرانک اور دستاویزی ثبوت شامل ہیں۔
بھارتی سپریم کورٹ میں دائر کی جانیوالی مفاد عامہ کی درخواست میں میں کہا گیا ہے کہ شواہد تباہ ہونے، تبدیل کیے جانے، ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیے جانے اور گم ہونے سے بچایا جائے۔ اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ تمام ثبوت مناسب عدالتی اور تفتیشی اتھارٹی کے سامنے پیش کیے جائیں۔ عرضی میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جہاں دستیاب شواہد، جیسے سرکاری ریکارڈ، الیکٹرانک شواہد، میڈیا رپورٹس اور دیگر قابل اعتماد مواد کی بنیاد پر یہ ظاہر ہوتا ہو کہ کسی شخص، سرکاری ملازم، پولیس افسر، سیکورٹی اہلکار یا کسی دیگر مجاز اتھارٹی کے ذریعہ پولیس جرم لگتا ہے تو وہاں آئین اور نافذ قوانین کے مطابق فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے اور غیر جانبدار، آزادانہ اور مقررہ مدت کے اندر فوجداری جانچ شروع کی جائے۔