ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

​جعلی طریقوں اور فراڈ سے بنائے گئے شناختی کارڈز کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم

​جعلی طریقوں اور فراڈ سے بنائے گئے شناختی کارڈز کیخلاف لاہور ہائیکورٹ کا بڑا حکم
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے جعلی طریقوں، فراڈ اور مشکوک شہریت کی بنیاد پر بنائے گئے قومی شناختی کارڈز سے متعلق ایک اہم اور نظیر بننے والا فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نادرا کے فیصلوں کے خلاف براہ راست سول عدالتوں یا ہائیکورٹ سے رجوع نہیں کیا جا سکتا، بلکہ قانون میں فراہم کردہ متبادل فورمز سے رجوع کرنا لازمی ہوگا.

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے نادرا کی جانب سے دائر سول نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے سول عدالت اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے اپنے 14 صفحات پر مشتمل فیصلے کو عدالتی نظیر قرار دیتے ہوئے نادرا آرڈیننس اور متعلقہ قوانین پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔عدالت نے واضح کیا کہ سول عدالتوں کو اس وقت تک ایسے دعوے سننے کا اختیار حاصل نہیں جب تک قانون میں موجود متبادل قانونی فورمز سے مکمل طور پر رجوع نہ کیا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ نادرا کے فیصلوں کے خلاف پہلے نادرا ویریفکیشن بورڈ اور اس کے بعد وفاقی حکومت کے مقرر کردہ قانونی فورمز سے رجوع کرنا ضروری ہوگا۔لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ مشکوک شہریت یا شناختی کارڈ سے متعلق مقدمات میں والد یا دادا کی 1979 سے قبل پاکستان میں رہائش کے مستند ثبوت پیش کرنا لازمی ہوگا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ 1979 سے پہلے کے تعلیمی اسناد، ڈومیسائل، پاسپورٹ، فیملی یا دیگر سرکاری ریکارڈ جیسے دستاویزات بنیادی شواہد تصور کیے جائیں گے۔
عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ ایسے تمام زیر التوا مقدمات، جن میں متعلقہ دستاویزات موجود نہیں، ان کے فریقین کو 30 دن کی مہلت دی جائے۔ اگر مقررہ مدت میں مطلوبہ ریکارڈ جمع نہ کرایا گیا تو ایسے دعوے خارج کر دیے جائیں گے۔فیصلے میں کہا گیا کہ نادرا ویریفکیشن بورڈز ہر درخواست کا فیصلہ 60 دن کے اندر کرنے کے پابند ہوں گے تاکہ شہریوں کو بروقت انصاف اور قانونی ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو سفارش کی ہے کہ نادرا آرڈیننس میں ضروری ترامیم کرتے ہوئے شہریت اور شناختی کارڈ کے تنازعات کے لیے خصوصی دائرہ اختیار کی واضح شق شامل کی جائے تاکہ مستقبل میں غیر ضروری مقدمات اور قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔عدالت نے پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کو بھی ہدایت دی ہے کہ ضلعی عدلیہ کے تمام جوڈیشل افسران کو نادرا قوانین، شہریت کے تنازعات اور متعلقہ قانونی طریقہ کار پر دو ماہ کی لازمی تربیت فراہم کی جائے تاکہ ایسے مقدمات قانون کے مطابق نمٹائے جا سکیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ شناختی کارڈ اور شہریت کے معاملات قومی سلامتی اور عوامی مفاد سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے فیصلے صرف قانون کے مقرر کردہ طریقہ کار کے مطابق ہی کیے جائیں گے۔ عدالت نے قرار دیا کہ فراڈ، جعلی دستاویزات یا غیر قانونی ذرائع سے شناختی کارڈ حاصل کرنے کے معاملات میں سخت قانونی تقاضوں پر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کا یہ فیصلہ مستقبل میں شہریت، نادرا شناختی کارڈز اور متعلقہ مقدمات کے لیے ایک اہم عدالتی نظیر ثابت ہوگا اور اس سے مختلف عدالتوں میں زیر سماعت ایسے مقدمات کے طریقہ کار پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

Ansa Awais

Content Writer