سٹی42: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے کے سکولوں میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہوئے تعلیمی نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پنجاب میں گوگل ٹیک ویلی ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ایڈوائزری بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز اور صوبائی وزراء نے آفیشل ورکشاپ “ایمپاورنگ پنجاب ود اے آئی” میں شرکت کی، جہاں ورکشاپ کا باقاعدہ آغاز وزراء کی حاضری سے کیا گیا۔ پنجاب کابینہ کے ارکان کو گوگل کے جیمنی ٹولز کے مؤثر استعمال، گورننس اور پالیسی فریم ورک کی تشکیل میں اے آئی کے کردار پر بریفنگ دی گئی۔
ورکشاپ میں آپریشنل پالیسی سازی، شعبہ جاتی اصلاحات، پالیسی سمری کے تجزیے اور گوگل ٹولز کے استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سوچ اور کام کے طریقہ کار کو بدل سکتی ہے اور اصلاحات و پالیسی سازی میں اے آئی کی معاونت ناگزیر ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اے آئی ٹولز کا ذمہ داری سے استعمال مثبت اور دیرپا تبدیلی لا سکتا ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب میں گوگل فار ایجوکیشن کے پلیٹ فارم پر 3 ہزار اساتذہ کی ماسٹر ٹریننگ کی جا رہی ہے، جبکہ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 3 لاکھ سے زائد طلبہ کی اسٹوڈنٹ آئی ڈیز قائم کی جا چکی ہیں۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت 2 لاکھ طلبہ اور 2 ہزار اساتذہ کو بھی تربیت دی جا رہی ہے۔
ڈیجیٹل صحافت کے فروغ کے لیے 10 اداروں کو ایک ہزار اسکالرشپس فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔