ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے جیل میں قید شہری کو سی سی ڈی کی جانب سے پولیس مقابلہ کے مقدمے نامزد کرنےکے بعد نام پی این آئی لسٹ میں شامل کروانے کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا .
جسٹس تنویر احمد شیخ نے شہری آصف معراج کی درخواست پر سماعت کی، اسٹنٹ ایڈوکیٹ جنرل حافظ ظہیر ناصر نے عدالت کو بتایا کہ سی سی ڈی کے دو اہلکاروں نے درخواست گزار کا نام پی این آئی ایل میں شامل کرنے کے لیے ڈی آئی جی لیگل کو خط لکھا، جس کے بعد ڈی آئی جی لیگل نے وہ مراسلہ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کو بھجوا دیا۔ اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل حافظ ظہیر کے مطابق امیگریشن حکام نے نام پی این آئی ایل میں شامل کر دیا تھا، تاہم اب درخواست گزار کا نام فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔لاء افسر نے مزید بتایا کہ نام شامل کرنے والے متعلقہ سی سی ڈی اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
جسٹس تنویر احمد شیخ نے ریمارکس دیے کہ عدالت ان اہلکاروں کو دیکھنا چاہتی ہے جنہوں نے یہ جرات کی۔
انہوں نے کہا کہ ایک شخص کا مستقبل تباہ کر کے رکھ دیا گیا۔ عدالت نے عندیہ دیا کہ اگر سی سی ڈی اہلکار پیش نہ ہوئے تو آئی جی پنجاب کو طلب کیا جائے گا۔ بعد ازاں متعلقہ سی سی ڈی اہلکار اپنے افسران اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہوئے۔،ایس پی سی سی ڈی رانا عباد نے مؤقف اختیار کیا کہ اہلکاروں سے تکنیکی غلطی ہوئی ہے اور انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے محکمانہ کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ یہ محض غلطی ہے یا سنگین بلنڈر؟ اور کیا اس اقدام پر فوجداری جرم بھی بنتا ہے؟اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ اہلکاروں کی بدنیتی ثابت نہیں ہوتی، اس لیے فوجداری کارروائی نہیں بنتی، البتہ محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ منڈی بہاؤالدین کے مقدمے میں غلطی تسلیم کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود درخواست گزار کے خلاف ایک اور مقدمہ 6 مئی 2025 کو درج کر لیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ اب تک تین مقدمات قائم کیے جا چکے ہیں اور سوال اٹھایا کہ کیا سی سی ڈی ایک ہی شخص کے خلاف مسلسل غلطیاں کرتی رہے گی؟جسٹس تنویر احمد شیخ نے استفسار کیا کہ پولیس اسی شخص کے خلاف بار بار مقدمات کیوں درج کر رہی ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ اسے مبینہ پولیس مقابلے میں مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ آخر پولیس اسے کیوں مارنا چاہتی ہے؟ وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار کو کاہنہ کے علاقے سے گرفتار کیا گیا مگر وہاں بھی گرفتاری ظاہر نہیں کی گئی۔ بے بنیاد مقدمات بنائے گئے ہیں،عدالت نے سی سی ڈی افسران اور درخواست گزار کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔