ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وفاقی آئینی عدالت کا ٹیکس حکام کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری

وفاقی آئینی عدالت کا ٹیکس حکام کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

کلیم اختر: وفاقی آئینی عدالت نے ٹیکس حکام کے اختیارات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس میں ٹیکس افسران کو قانون کے نفاذ کے لیے وسیع اختیارات کا حامل قرار دیا گیا ہے۔

عدالت نے اپنے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ ٹیکس حکام کمپیوٹرز، ریکارڈ، دستاویزات اور اکاؤنٹس کو قبضے میں لینے کے مکمل مجاز ہیں اور وہ کسی بھی وقت بغیر پیشگی نوٹس کسی بھی مقام پر چھاپہ مار سکتے ہیں، بشرطیکہ قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہوں۔

فیصلے میں واضح کیا گیا کہ چھاپہ مارنے کے لیے ٹیکس دہندہ کے خلاف پہلے سے کسی کیس کا زیرِ سماعت ہونا ضروری نہیں۔ عدالت نے نجی کمپنی کی جانب سے یہ اپیل مسترد کر دی کہ بغیر زیرِ سماعت کیس کے چھاپہ غیر قانونی قرار دیا جائے۔

عدالت نے قرار دیا کہ پارلیمنٹ نے ٹیکس حکام کو قانون کے نفاذ کے لیے واضح اور وسیع اختیارات دے رکھے ہیں اور عدالت قانون میں ایسی کوئی شرط شامل نہیں کر سکتی جو پارلیمنٹ نے تحریری طور پر درج نہ کی ہو,تاہم فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کمشنر کو تحریری طور پر

وضاحت کرنا ہوگی کہ کس قانون کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ عدالت کے مطابق اگر قانونی تقاضے پورے ہوں تو چھاپہ کارروائی آئینی دائرہ اختیار کے مطابق تصور کی جائے گی۔