سٹی42: اجتماعی شادی کے نام پر کھلا دھوکا ہو گیا۔ پولیس کے خدا ترس اہلکاروں نے خود انتظام کر کے اجتماعی شادیاں کروا دیں۔
فراڈ گروہ نے معصول لڑکیوں اور مردوں کی اجتماعی شادی کے لئے بھاری رقم لے کر رجسٹریشن کی، انہیں اجتماعی شادی کی تاریخ دی، ایک بڑےہال میں بلایا اور مقررہ تاریخ پر خود غائب ہو گئے۔
موہت کھیر کی دلہن نے اپنے عروسی لباس میں بیٹھ کر بتایا، ’ہمیں اس اجتماعی شادی کا اخبار سے علم ہوا تھا۔ ہمیں اس کی ضرورت تھی۔ ہم ویسے بھی شادی کرنے والے تھے۔ ہم نے اس کے لیے ایک ماہ پہلے فارم بھرا۔ منتظمین ہمیشہ ہمیں فون کرتے اور پوچھتے کہ ہم کیا کیا چاہتے ہیں اور کیا نہیں چاہتے۔
’وہ ہمیں یہ بھی بتاتے رہے کہ اجتماعی شادی کی تقریب کی تیاریاں کیسی چل رہی ہیں۔ انھوں نے ہم سے کہا کہ خالی ہاتھ آؤ اور شادی کر کے گھر جاؤ۔ لیکن آج جب ہم یہاں آئے تو کچھ نہیں تھا۔ ہم نے نہیں سوچا تھا کہ یہ لوگ ہمیں اس طرح دھوکہ دیں گے۔‘
اس معصوم دلہن نے کہا ان کی موہت کھیر سے اجتماعی شادی کی تقریب میں شادی ہونے والی تھی۔
موہت اور ان کی دلہن کے اہل خانہ نے 30 ہزار روپے دے کر شادی کے لیے رجسٹریشن کروائی تھی لیکن گجرات کے راجکوٹ میں اجتماعی شادی کی تقریب کے منتظمین کا شادی کے دن کوئی اتا پتا نہیں تھا۔
اس اجتماعی شادی کی تقریب کا اہتمام ’رشی ونش سماج‘ کے نام سے ہفتہ (22 فروری) کو راجکوٹ میں اے ڈی بی ہوٹل کے سامنے گراؤنڈ میں کیا گیا تھا۔
اس تقریب میں شادی کے لیے آنے والے 28 جوڑوں سے کم از کم 15 ہزار سے لے کر زیادہ سے زیادہ 40 ہزار روپے تک کے ڈونیشن لیے گئے تھے۔
تاہم شادی کے دن منتظمین غائب ہو گئے۔
پولیس میں شکایت
مفت اجتماعی شادی میں قیمتی تحائف ملنے کے لالچ میں بھاری رقم سے محروم کر دیئے جانے والوں مین سے بعض فوراً پولیس تھانے مین چلے گئے۔ اس دھوکے کے سلسلے میں پولس میں شکایت درج کروائی گئی اور پھر پولس کی ایک ٹیم وہاں پہنچی۔
اجتماعی شادی کے نام سے دھوکہ دہی کی شکایت کرنے والے ایک نوجوان اہل خانہ نے بتایا کہ منتظمین نے انھیں لاکھوں روپے کا دھوکہ دیا اور یہاں سے فرار ہوگئے۔ آرگنائزر کا شادی کے منڈپ سے غائب ہونا ان جوڑوں کے لیے بڑا صدمہ تھا جو اس دن شادی کرنا چاہتے تھے۔
ہفتے کی صبح شادی کی تقریب کے لیے مجوزہ مقام شادی کے مہمانوں اور دولہا اور دلہنوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ دولہا بھی موجود تھے، دلہنیں بھی سج سنور کر آ چکی تھیں، نہیں تھے تو اجتماعی شادی کروانے والے ہی نہیں تھے۔ منتظمین کا انتظار ک زیادہ طویل ہوا تو کچھ جوڑے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔
خدا ترس پولیس نے خود شادیاں کروا دیں
اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس رادھیکا بھرائی نے کہا: 'اس شادی کی تقریب کے منتظمین نے یہاں کچھ نہیں کیا اور وہ یہاں موجود بھی نہیں ہیں۔ ان کے فون بند ہیں، یہ جاننے کے بعد راجکوٹ پولیس نے اس اجتماعی شادی کی تقریب کی ساری ذمہ داری اپنے کندھوں پر لے لی ہے۔ تین سے چار جوڑوں کی شادیاں شروع ہو گئی ہیں۔'
پولیس کو واقعے کا علم ہونے کے بعد انھوں نے منتظمین کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔ محکمہ پولیس کے اہلکاروں نے تمام جوڑوں کی شادیوں کے انتظامات کے لیے اپنی خدمات پیش کیں تاکہ شادی کی تقریب میں آنے والوں کی شادیوں میں تاخیر نہ ہو۔ پولیس کی مداخلت کے بعد شادی کی تقریب شروع ہوئی۔
پولیس کے ایک افسر نے مزید کہا کہ ’ہم بعد میں منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کریں گے، لیکن فی الحال ہم ان جوڑوں کی مدد کر رہے ہیں جو یہاں شادی کے لیے آئے تھے۔ ہم ان کی صحیح وقت پر شادی کرنے کے لیے یہاں موجود ہیں۔

مرکزی کردار عادی فراڈیا نکلا
اس معاملے میں راجکوٹ پولیس نے پدمنا نگر پولیس سٹیشن میں دھوکہ دہی اور مجرمانہ سازش جیسی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ اس معاملے میں مرکزی منتظم سمیت کل چھ لوگوں کے خلاف شکایت درج کی گئی ہے۔
ان میں سے دلیپ گوہل، دیپک ہیرانی، اور منیش وٹھل پارا کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ ہاردک شیشنگیا، دلیپ ورسندا، اور مرکزی ملزم چندریش چھترالا کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کو موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اس اجتماعی شادی کی تقریب کے لیے چند مخیر حضرات سے چندہ بھی لیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ دولہا اور دلہن کے اہل خانہ سے 15 ہزار روپے بھی لیے گئے۔
الزام ہے کہ اس معاملے کے ملزم نے 2023 میں اسی طرح اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کرکے دھوکہ دہی کا ارتکاب کیا، اس کے بعد بھی شکایت درج کروائی گئی تھی۔
پولیس نے بتایا ہے کہ یہاں شادی کرنے کے لیے آنے والے 28 جوڑوں میں سے چھ شادی شدہ تھے۔ پولیس نے 22 فروری کو ایک پریس کانفرنس کی اور کہا کہ اس نے ان لوگوں کی شادی کے تمام انتظامات کر لیے ہیں۔
موہت کی ہونے والی بیوی نے صحافیوں کو بتایا: 'ہم صبح ساڑھے 6 بجے سے یہاں بیٹھے ہیں۔ میرے والدین نے شادی کی ادائیگی کے لیے قرض لیا تھا۔ ہمیں جلد از جلد انصاف ملنا چاہیے۔ ہم سب نے تیس تیس ہزار روپے ادا کیے ہیں۔'

سو دلہنوں کا قافلہ گجرات سے بے وقوف بننے کے لئے آیا
گجرات کے جام نگر میں رہنے والے ارجن بھائی بھی یہاں شادی کرنے آئے تھے۔ اس واقعہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم جام نگر سے یہاں آئے ہیں، ہم دونوں خاندانوں سے 15000 روپے لیے گئے تھے لیکن جب ہم یہاں آئے تو منتظمین غائب تھے۔
'ہم یہاں 100 دلہنوں کے ساتھ آئے۔ ہماری ساکھ ختم ہو گئی ہے، ہم اپنی عزت واپس چاہتے ہیں۔ ہم نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔'
ارجن بھائی نے مزید کہا: 'ہم منتظمین پر بھروسہ کرتے ہوئے یہاں آئے تھے۔ لیکن ہمیں یہاں ایسا کچھ ہونے کی امید نہیں تھی۔ ہمیں فیس بک سے اس تنظیم کے بارے میں معلومات ملی، جس کے بعد ہم نے فارم بھی بھرا۔'
یتیم خاتون کو شادی مین 208 تحفے ملنے کا لالچ دیا
ارجن بھائی کی ہونے والی بیوی کہتی ہیں: 'میرے والدین نہیں ہیں۔ ہم یہاں شادی کے لیے آئے تھے۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ہمیں شادی کے بعد 208 تحائف دیے جائیں گے۔ ان کو تو چھوڑ دیں، یہاں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ صرف ایک منڈپ بنا دیا گیا ہے۔'
شادی کے منتر پڑھنے والے 28 پنڈے بھی بے وقوف بن گئے
اس شادی کی تقریب کے لیے آئے پنڈت جے پی دادا نے کہا: 'منتظمین کمیٹی نے ایک ماہ قبل ہم سے رابطہ کیا تھا۔ مجھے 28 برہمنوں کے ساتھ یہاں آنے کے لیے کہا گیا تھا۔ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ منتظمین برہمنوں کو دکشینہ دیں گے، لیکن فی الحال یہاں کوئی انتظام نہیں ہے۔'