ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بھارت میں نیا ’’پنگا‘‘ جو مقامی زبان بولے گا اسکو  رکشہ کا پرمٹ ملے گا

آٹو رکشہ یونین 4 مئی کو ممبئی اور مضافاتی علاقوں میں ہڑتال کی وارننگ دیدی

بھارت میں نیا ’’پنگا‘‘ جو مقامی زبان بولے گا اسکو  رکشہ کا پرمٹ ملے گا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست مہاراشٹر میں آٹو رکشہ چلانے والوں کے لیے مراٹھی زبان میں بات چیت لازمی کیے جانے کے فیصلے نے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا ہے۔ ریاستی وزیر پرتاپ سرنائک نے اعلان کیا ہے کہ اب آٹو رکشہ کا پرمٹ (اجازت نامہ) اسی ڈرائیور کو دیا جائے گا، جسے مراٹھی زبان پڑھنا اور بولنا آتا ہو۔ اس فیصلے کی مخالفت میں آٹو رکشہ یونین نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے 4 مئی کو ممبئی اور مضافاتی علاقوں میں ہڑتال کرنے کی وارننگ دی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق   آٹو رکشہ یونین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ہزاروں غیر مراٹھی بولنے والنے ڈرائیوروں کے روزگار پر اثر ڈال سکتا ہے۔ یونین نے یہ بھی دلیل دی ہے کہ ممبئی جیسے بڑے شہر میں ملک کے ہر حصے سے آئے لوگ کام کرتے ہیں اور زبان کی بنیاد پر روزگار کو محدود کرنا مناسب نہیں ہے۔ ساتھ ہی یونین نے حکومت کے اس فیصلے کو نافذ کرنے سے قبل کم از کم 3 سے 6 ماہ تک وقت دینے کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ ڈرائیور مراٹھی سیکھ سکیں۔
دوسری جانب اس معاملہ پر  منسے ( مہاراشٹر نو نِرمان سیان) کی مقامی شہری شاخ بھی متحرک ہو گئی ہے۔ پارٹی کی جانب سے لسانی بنیادوں پر آٹو رکشوں پر مراٹھی زبان سے متعلق اسٹیکر لگائے جا رہے ہیں۔ منسے کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں رہنے والے ہر شخص کو مراٹھی زبان آنی چاہیے اور جنہیں نہیں آتی انہیں اسے سیکھنا چاہیے۔ فی الحال اس فیصلے کو لے کر ریاست میں سیاسی اور معاشرتی ماحول گرما گیا ہے اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید تنازعہ بڑھنے کا امکان ہے۔
ٹھانے میں مہاراشٹر نو نِرمان سینا (ایم این ایس) کے مرکزی دفتر کے پاس، غیر مراٹھی آٹو اور ٹیکسی ڈرائیوروں کو وارننگ دینے والے بینر لگائے گئے ہیں۔ یہ پوسٹر خاص طور پر ان ڈرائیوروں کو نشانہ بناتے ہیں جو مراٹھی نہیں بولتے ہیں اور انہیں وارننگ دیتے ہیں کہ وہ عوام کو کسی طرح کی پریشانی نہ پہنچائیں۔ بینر پر لکھا ہے کہ اگر آپ کو مراٹھی نہیں آتی اور آپ ہڑتال  کی کال دے کر عام لوگوں کو پریشان کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یاد رکھیں آپ کا سامنا مہاراشٹر نو نِرمان سینا (ایم این ایس) سے ہے۔ اسے کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ بینر ایم این ایس لیڈر اویناش جادھو اور سٹی نائب صدر سشانت ڈومبے نے لگائے ہیں۔