پہلگام، کشمیر کی سرزمین کا وہ ٹکڑا جہاں صدیوں سے ہوا میں گلابوں کی مہک بسی رہتی تھی، آج بارود کی بو سے بوجھل ہو گئی ہے،خون میں نہائے بدن، خوف سے کانپتی وادی اور جھوٹ کی چادر میں لپٹی سرکاری کہانیاں جوخون آشام مناظر کی عکاسی کرتی ہیں‘ یہ درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسیوں کا مکروہ اورحقیقی بھیانک چہرہ ہے۔
پہلگام کا سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کا مقصد نہ صرف کشمیری عوام کی جدوجہد کو بدنام کرنا تھابلکہ بھارت کے اندر اور باہر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ایک اور کوشش بھی تھی مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم کے ہتھکنڈے ہمیشہ سچائی کی روشنی کے سامنے پگھل کر رہ جاتے ہیں،سانحہ پہلگام کے بعدجنت نظیروادی کشمیر میں عوام کا ردعمل فطری تھا،ہزاروں کشمیریوں نے سڑکوں پر نکل کر یہ واضح کیا کہ وہ ظلم کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے، پہلگام سے لے کر بانڈی پورہ تک، شوپیاں سے مظفرآباد تک ایک ہی نعرہ گونجتا رہا”ہمیں حق چاہیے، جھوٹ نہیں۔“
یہ عوامی احتجاج اس بات کا عملی مظاہرہ تھا کہ کشمیری عوام نہ صرف اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں بلکہ وہ ہر فریب، ہر مکاری اور ہر جھوٹے پروپیگنڈے کا ڈٹ کر سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں،قابل ذکر بات یہ رہی کہ پہلگام کے اس دلخراش سانحے نے ایک بار پھر کشمیری عوام کی پاکستان سے محبت اور افواجِ پاکستان سے والہانہ عقیدت کو بھی نمایاں کر دیا،احتجاجی ریلیوں میں پاکستانی پرچموں کا لہرانا، ”پاکستان سے رشتہ کیا، لاالہ الااللہ‘پاکستان زندہ باد‘پاک فوج زندہ باد“ کے نعروں کی گونج، اور شہداء کے لیے دعاؤں میں پاکستان کی سلامتی کی دعائیں، سب کچھ یہ بتانے کیلئے کافی تھا کہ کشمیری دل آج بھی اسلام آباد کی گلیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں،ان کشمیریوں کے دلوں میں پاکستان صرف ایک ملک نہیں، ایک خواب، ایک امید اور ایک مقدس نسبت کا نام ہے۔
بھارتی میڈیا کی چیختی چلاتی شہ سرخیاں، جو ہر سانحے کے بعد پاکستان اور کشمیریوں پر الزام تراشی کی دوڑ میں سبقت لے جانا چاہتی ہیں، اس بار بھی بے نقاب ہوئیں، مگر اس بار سچ، جو ہمیشہ دبے قدموں چلتا ہے، پہلے سے زیادہ مضبوطی سے سامنے آیا، ایک بھارتی صحافی نے اپنے وی لاگ میں کھل کر کہا کہ پہلگام کا واقعہ پہلے سے ترتیب دی گئی ایک ڈرامہ بازی معلوم ہوتی ہے، ایک اور بھارتی خاتون صحافی نے ”راء“ کے بیانیے پر طنز کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ دہائیوں سے فالس فلیگ آپریشنز کے ذریعے بھارت نہ صرف اپنے عوام بلکہ دنیا کو بھی گمراہ کرتا رہا ہے،سری نگر سے تعلق رکھنے والے صحافی جو آزادی اظہار کے حق میں کئی بار قید و بند کی صعوبتیں جھیل چکے ہیں، سوشل میڈیا پر واضح پیغام دیتے رہے کہ سچ کو قید نہیں کیا جا سکتا اور پہلگام کے معصوموں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا،ان سمیت بیسیوں غیرجانبدار سنجیدہ مزاج مبصیرین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پہ اس طرح کے پیغامات آج بھی موجود ہیں۔
بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے فالس فلیگ آپریشنز کا مکروہ چہرہ اس بار خود بھارتی صحافیوں اور آزاد مبصرین نے بے نقاب کیا،سینئر تجزیہ کاروں نے سوشل میڈیا پر واضح شواہد کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ کس طرح بھارتی اسٹیبلشمنٹ اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے خودساختہ دہشتگرد حملے کروا کر ان کا الزام کشمیری حریت پسندوں پر ڈالتی ہے،خود بھارت کے اندر کئی معتبر اداروں نے بھی غیرجانبدار رپورٹنگ کے ذریعے سرکاری بیانیے پر سوالات اٹھائے جس نے بھارتی میڈیا کے جھوٹے پراپیگنڈے کی قلعی کھول کر رکھ دی،پاکستانی میڈیا نے اس موقع پر غیر معمولی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے سنجیدگی، متانت اور پیشہ ورانہ اخلاقیات کا دامن تھامے رکھا،پاکستانی میڈیانے اپنی رپورٹوں میں غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا،مظلوم کشمیریوں کی سچائی کو دنیا کے سامنے لانے کی ذمہ داری کو نبھایااوربلاوجہ سنسنی پھیلانے کے بجائے عالمی اداروں کو جھنجوڑنے کی کوشش کی کہ وہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائیں۔
ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلگام کے خونی منظر نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حق کو جتنا بھی دبایا جائے،وہ اپنی راہ خود تلاش کر لیتا ہے،ظلم جتنا بھی سنگین ہو، سچائی کے سورج کو ہمیشہ کے لیے غروب نہیں کر سکتا،سانحہ پہلگام نے یہ ثابت کر دیا کہ ظلم کتنا ہی منظم ہو،جھوٹ کتنی ہی مہارت سے بولا جائے،اور فریب کتنی ہی خوبصورتی سے بُنا جائے،حق اور سچائی کی کرنوں کو دبایا نہیں جا سکتااور کشمیری عوام نے، اپنی قربانیوں، اپنے عزم، اور پاکستان سے اپنی بے لوث محبت کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ نہ کبھی بکے ہیں،نہ کبھی جھکے ہیں،اور نہ آئندہ جھکیں گے،اب سوال عالمی ضمیر کے در پر ہے کہ کیا دنیا اب بھی خاموش تماشائی بنی رہے گی؟ یا وہ پہلگام کے معصوم خون کی پکار پر لبیک کہے گی؟