ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

’’وزیر اعلیٰ خان کا ہے خیبرپختونخوا کا نہیں‘‘

تحریر: عدیل احمد

’’وزیر اعلیٰ خان کا ہے خیبرپختونخوا کا نہیں‘‘
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

’’وزیر اعلیٰ خان کا ہے خیبرپختونخوا کا نہیں‘‘ یہ وہ آوازیں ہیں جو کے پی سے اُٹھ رہی ہیں  اور اس کی سب سے بڑی وجہ وہ شخص ہے جسے عوام کا ہمددر ہونا چاہیے جسے اپنے عوام کی فکر ہونی چاہیے  جسے اپنے صوبے میں امن امان کی صورتحال پر تشویش ہونی چاہیے وہ چیف ایگزیکٹیو عوام کو چھوڑ کے صرف خان کی فکر میں مبتلا ہے اور اسی فکر میں وفاق پر چڑھائی کی تیاریاں کر رہا ہے۔
خیبرپختونخوا کے لوگوں نے ایک وزیراعلیٰ منتخب کیا لیکن اس کی سب سے بڑی ترجیح صوبے کے عوام نہیں بلکہ عمران خان کی سیاست اور احتجاج ہیں اور یہ سوالات آج خیبرپختونخوا کے گلی کوچوں اور بازاروں میں عام آدمی کے دل میں موجود ہے،  خیبرپختونخوا  کے عوام وزیراعلیٰ  سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ریلیاں اور جلسے چھوڑ کے ان کے فکر کون کرے گا؟
جب خیبرپختونخوا میں امن و امان ایک بڑا سوال بن جائے ، جب عام شہری اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں پریشان ہو ، جب لوگوں کو روزگار، صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی ضرورت ہو تو اس وقت وزیراعلیٰ کی سب سے بڑی ذمہ داری کیا ہونی چاہیے؟ کیا وزیراعلیٰ کو صوبے کے مسائل کے درمیان ہونا چاہیے؟ یا سیاسی احتجاج اور ریلیوں کے درمیان؟
آج صورتحال یہ نظر آتی ہے کہ وزیراعلیٰ کبھی خیبرپختونخوا سے باہر سیاسی سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیتے ہیں اور کبھی احتجاجی سیاست میں نظر آتے ہیں اگر کہیں نظر نہیں آتے تو وہ ان کا اپنا صوبہ ہے۔
اگر عمران خان کے لیے آواز اٹھانا سہیل آفریدی کی سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری ہے تو کیا خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے جواب دہ ہونا ان کی آئینی اور انتظامی ذمہ داری نہیں؟ اگر وہ احتجاج کے لیے دوسرے صوبے جا سکتے ہیں تو کیا اسی جذبے کے ساتھ اپنے صوبے کے مسائل کا جائزہ بھی لے سکتے ہیں؟
یہ سوال کسی ایک جماعت کا نہیں ، یہ سوال خیبرپختونخوا کے عوام کا ہے  اور عوام پوچھتے ہیں کہ کیا خیبرپختونخوا کا عوام وزیر اعلیٰ کی ترجیحات میں شامل ہیں یا نہیں؟

نوٹ:بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ایڈیٹر