سٹی42: امریکہ میں پیٹینٹ اور برانڈڈ دواؤں کی امپورٹ پر ٹیرف بڑھا کر سو فیصد کر دینے کے اعلان سے مارکیٹ اتھل پتھل ہو گئی۔ کنزیومرز، امپورٹرز اور ایکسپورٹز سب خوفزدہ ہو گئے کہ اب کیا ہو گا۔
بھارتی میں میڈیا کی رپورٹوں میں بتایا جا رہا ہے کہ امریکہ میں پیٹینٹ دواؤں کی امپورٹ پر درآمدی ٹیرف بڑھا کر سو فیصد کر دینے سے بھارت کی دوائیں بنانے کی انڈسٹری کو سخت نقصان پہنچے گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملکیتی پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر یہ تہلکہ خیز اعلان کیا کہ یکم اکتوبر سے فارماسیو ٹیکل کی امپورٹ پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں ادویات کا پلانٹ لگانے پر ٹیرف سے چھوٹ مل جائے گی۔ ٹرمپ نے کہا، یہ ٹیکس کئی وجوہات کی بنیاد پر لگایا جا رہا ہے لیکن سب سے بڑھ کر "قومی سلامتی کے مفادات" کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
بھارت کے میڈیا میں ٹرمپ کے اعلان کے بعد جو رہورٹین آئی ہیں وہ بتا رہی ہیں کہ نئے ٹیرف کی وجہ سے بھارت کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ بھارت دواؤں کے ان ایکسپورٹرز میں شامل ہے جو امریکہ میں استعمال ہونے والی ایک تہائی سے زائد ادویات بھیج رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت ہر سال تقریباً 10 ارب ڈالر کی فارماسیوٹیکل مصنوعات امریکہ کو برآمد کرتا ہے۔
امریکہ نے بھارت سے آنے والی پروڈکٹس پر 50 فیصد ٹیرف پہلے ہی نافذ کررکھا ہے جس سے بھارتی برآمدات مشکلات کا شکار ہیں۔
کون سی دوائیں ٹیرف کی زد میں آئیں گی
فنانشل ٹائمز نے لکھا ہے کہ اس ٹیرِف کا اطلاق جینرک دواؤں(جن کو دواا کے سائنسی نام کے ساتھ فروخت کیا جاتا ہے اور کوئی برانڈ نہیں ہوتا) پر نہیں ہوگا، صرف برانڈز کی دوائین اور پیٹنٹ ادویات اس ٹریف کا ہدف بنیں گی۔
⚠ سوالات، خدشات اور ممکنہ پیچیدگیاں
قانونی اتھارٹی
ریاستہائے متحدہ میں صدر کے پاس درآمدات پر محصول لگانے کی حدود ہوتی ہیں، اور اسے اکثر کانگریس کی منظوری یا مخصوص تجارتی قوانین کی طاقت درکار ہوتی ہے۔ امریکہ میں دواؤں کے امپورٹر کسی عدالت میں یہ سوال کھڑا ہ کر سکتے ہیں کہ ٹرمپ کس قانونی جواز کی بنیاد پر یہ 100٪ ٹیرِف نافذ کریں گے۔
تجارتِ بین الاقوامی معاہدے
امریکہ نے ماضی میں مختلف تجارتی معاہدے کیے ہیں (مثلاً WTO کے قواعد، دوطرفہ معاہدے) جو بہت زیادہ محصولات کی وصولی میں رکاوٹ ہیں۔ دوائیں امریکہ کو ایکسپورٹ کرنے والے ممالک صدر ٹرمپ کے اس اقدام کو عالمی تجارتی اصولوں کی خلاف ورزی کہہ سکتے ہیں اور جواباً اقدامات اٹھا سکتے ہیں۔
ادویات کی دستیابی اور قیمتیں
اگر یہ محصول چار دن بعد یکم اکتوبر کو حقیقت بن گیا، تو امریکہ میں امپورٹڈ برانڈز کی ادویات کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ یہ بیماریوں، مریضوں، اور نظامِ صحت پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے پہلے ہی امریکی سرمایہ کاری یا پلانٹس کی تعمیر کا آغاز کر رکھا ہے تاکہ اس طرح کی پالیسیاں ان پر اثر نہ ڈال سکیں۔ لیکن تمام ایکسپورٹرز کیلئے اپنے دوا سازی کے انتظام کو اٹھا کر امریکہ لے جانا یا امریکہ کی مارکیت کیلئے الگ سے امریکہ میں دوا سازی کا اہتمام کرنا کاروباری لحاظ سے وائیبل نہیں ہو گا۔
برآمد کنندگان خصوصاً بھارت پر اثرات
بھارت کے فارما سیکٹر کا بڑا حصہ جنرک ادویات کی بیرونِ ملک برآمد پر مشتمل ہے۔ بھارت کی جینرک ادویات کی صنعت پر صدر ٹرمپ کے ٹیرف کا اثر محدود ہو سکتا ہے۔ مگر جو بھارتی کمپنیاں برانڈز کے تحت اپنی ادویات امریکہ کو برامد کرتی ہیں، ان کی ایکسپورٹس مکمل بند ہو جانے کے خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
فارماسیوٹیکل کمپنیوں کا ردعمل
روشRoche اور نووارٹیس Novartis جیسی بڑی میڈیسن کمپنیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ٹیرف سے استثنیٰ ملنے کی توقع رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس پہلے سے ہی امریکہ کی بنیاد پر آپریشنز ہیں یا وہ تعمیر کر رہے ہیں۔
ممکنہ لاگت کے مضمرات اور تجارتی رکاوٹ کو دیکھتے ہوئے فارما انڈسٹری میں بہت سے لوگ قریب سے صدر ٹرمپ کےئ اعلان کے اثرات کو دیکھ رہے ہیں۔
تجارتی شراکت دار اور ریگولیٹری رکاوٹیں۔
یورپی یونین کے ایک حالیہ تجارتی معاہدے میں دواسازی کے محصولات (یورپی یونین کی برآمدات کے لیے) کو 15 فیصد پر رکھا گیا ہے، اور یورپی یونین کہتی ہے کہ وہ اس عزم کو پورا کرنے کی توقع رکھتی ہے یعنی یورپ سے بھیجی جانے والی دواؤں اور یورپ آنے والی دواؤں پر ٹریف 15 فیصد سے زیادہ نہ ہونے پائے۔
جاپان نے بھی اپنے معاہدوں میں اسی طرح کا حوالہ دیا ہے۔
آج سامنے آنے والا صدر ٹرمپ کا اعلان یہ واضح نہیں کرتا کہ یہ نئے محصولات موجودہ تجارتی معاہدوں اور وعدوں کے ساتھ کیسے تعامل کریں گے۔
مارکیٹ اور سرمایہ کاروں کا رسپانس
صدر ٹرمپ کے اس بھاری ٹیرف کے اعلان کے بعد کئی ایشیائی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے سٹاک مارکیٹ میں شیئرز گر گئے۔
تاہم، مجموعی طور پر اثر کچھ دن میں سامنے آنے کی توقع ہے کیونکہ بہت سی دوا ساز فرموں کے پاس پہلے سے ہی امریکی آپریشنز (امریکہ میں دوائیں بنانے کے پلانٹ) ہیں یا وہ امریکی سرمایہ کاری کا اعلان کر چکے ہیں۔
کچھ سرمایہ کار اس اقدام کو مکمل طور پر طے شدہ پالیسی کے بجائے سودے بازی کے ایک ٹول کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔