ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جسم میں آئرن کی زیادتی کے نقصانات

جسم میں آئرن کی زیادتی کے نقصانات
کیپشن: File photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: جسم میں آئرن کی مقدار اگر زیادہ ہو جائے تو اسے آئرن اوورلوڈ یا ہیماکرومیٹوسس کہا جاتا ہے۔

 آئرن کی زیادہ مقدار کی وجہ یا تو جینیاتی بیماری ہو سکتی ہے یا پھر زیادہ خون کی منتقلی/آئرن سپلیمنٹس کا ضرورت سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔

 زیادہ آئرن سے درج ذیل خطرات لاحق ہوتے ہیں:

 جگر کے مسائل

 جگر میں آئرن جمع ہوکر فیٹی لیور، جگر کا بڑھ جانا، یا جگر کا کینسر پیدا کر سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ سروسس بھی ہو سکتا ہے۔

 دل کے مسائل

 آئرن کی زیادتی دل کے پٹھوں میں جمع ہوکر ہارٹ فیلئر، بے ترتیب دھڑکن (Arrhythmia) یا کارڈیومایوپیتھی کا باعث بن سکتی ہے۔

 ذیابیطس

 لبلبہ میں آئرن جمع ہونے سے انسولین بننے کا عمل متاثر ہو جاتا ہے، جس سے ٹائپ 2 ذیابیطس ہو سکتی ہے۔

 ہارمونی اثرات

 پٹیوٹری گلینڈ متاثر ہو کر بانجھ پن یا ہارمونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

 جوڑوں کا درد

 آئرن کی زیادتی جوڑوں میں بھی اثر ڈالتی ہے، جس سے آرتھرائٹس جیسا درد ہو سکتا ہے۔

 جلد میں تبدیلیاں

 آئرن جمع ہونے سے جلد کا رنگ کانسی یا سیاہ نظر آنے لگتا ہے۔