ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد اورخیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 5.5 شدت کا زلزلہ

اسلام آباد اورخیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 5.5 شدت کا زلزلہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں جمعرات کی شب 5.5 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث عوام میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، سوات، چترال اور گرد و نواح میں محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.5 ریکارڈ کی گئی جبکہ اس کی گہرائی 195 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔

مرکز کے مطابق زلزلے کا مرکز افغانستان کے ہندوکش ریجن میں تھا، جہاں سے زیرِ زمین شدت دار لہروں نے پاکستان کے شمالی اور وسطی علاقوں کو متاثر کیا۔

زلزلے کے باعث شہری خوفزدہ ہو کر گھروں، دفاتر اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔ مختلف علاقوں میں لوگ کلمہ طیبہ کا ورد کرتے سڑکوں پر نکل آئے تاہم تاحال کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

 زلزلے کیوں آتے ہیں؟

  زلزلے قدرتی آفت ہیں جن کے باعث دنیا بھر میں لاکھوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زمین کی تہہ تین بڑی پلیٹوں سے بنی ہے۔ پہلی تہہ کا نام یوریشین، دوسری بھارتی اور تیسری اریبین ہے۔ زیر زمین حرارت جمع ہوتی ہے تو یہ پلیٹس سرکتی ہیں۔ زمین ہلتی ہے اور یہی کیفیت زلزلہ کہلاتی ہے۔ زلزلے کی لہریں دائرے کی شکل میں چاروں جانب یلغار کرتی ہیں۔  

 زلزلوں کا آنا یا آتش فشاں کا پھٹنا، ان علاقوں ميں زیادہ ہے جو ان پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن علاقوں میں ایک مرتبہ بڑا زلزلہ آ جائے تو وہاں دوبارہ بھی بڑا زلزلہ آ سکتا ہے۔ پاکستان کا دو تہائی علاقہ فالٹ لائنز پر ہے جس کے باعث ان علاقوں میں کسی بھی وقت زلزلہ آسکتا ہے۔

کراچی سے اسلام آباد، کوئٹہ سے پشاور، مکران سے ایبٹ آباد اور گلگت سے چترال تک تمام شہر زلزلوں کی زد میں ہیں، جن میں کشمیر اور گلگت بلتستان کے علاقے حساس ترین شمار ہوتے ہیں زلزلے کے اعتبار سے پاکستان دنیا کا پانچواں حساس ترین ملک ہے۔         پاکستان انڈین پلیٹ کی شمالی سرحد پر واقع ہے جہاں یہ یوریشین پلیٹ سے ملتی ہے۔ یوریشین پلیٹ کے دھنسنے اور انڈین پلیٹ کے آگے بڑھنے کا عمل لاکھوں سال سے جاری ہے۔ پاکستان کے دو تہائی رقبے کے نیچے سے گزرنے والی تمام فالٹ لائنز متحرک ہیں جہاں کم یا درمیانے درجہ کا زلزلہ وقفے وقفے سے آتا رہتا ہے۔