ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

بچے سوشل میڈیا سے دور رہیں؛ یوپی پارلیمنٹ کی عمر کی حد کےمتعلق اہم قرارداد

European Parliament، unanimous resolution، minimum age on social media, legal restriction
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بچوں کو سوشل میڈیا کے زہریلے ایکسپوژر سے بچانے کے لئے  حساس انسانوں کی کوشش کو عظیم کامیابی ملی ہے۔ یورپی پارلیمنٹ میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کیلئے کم ازکم عمر 16 سال مقرر کرنے کی قرارداد منظورہو گئی ہے۔ 
 برسلز میں  یورپی پارلیمنٹ نےآج بدھ کے روز ایک اہم  قرارداد پر اتفاق کیا جس میں سوشل میڈیا پر "عمر کے مطابق آن لائن مصروفیت" کو یقینی بنانے کے لیے پہلے سے طے شدہ کم از کم عمر 16 سال مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے اکتوبر میں شائع ہونے والے ایک مسودے کے مطابق، یورپی یونین کی قانون سازی میں "یورپ بھر میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کے لئے بچوں کی کم از کم ڈیفالٹ عمر   16 سال  مقرر کرنے  کے لئے کہا گیا تھا جس کے تحت آن لائن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک 16 سال سے کم عمر افراد کی  رسائی کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جب تک کہ والدین یا سرپرست اپنے بچوں کو  خاص طور سے اجازت نہ دیں۔"
اس نے 13 سال کی یورپی ڈیجیٹل عمر کی حد کا بھی مطالبہ کیا، جس کے تحت کوئی بھی نابالغ سوشل میڈیا پلیٹ فارم تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا، اور ویڈیو شیئرنگ سروسز اور "AI ساتھیوں" کے لیے عمر کی حد 13 سال مقرر کی گئی ہے۔
پارلیمنٹ کی قرار داد قانونی طور پر پابند ی نہیں ہے اور یہ رکن ممالک کے لئے کوئی پالیسی متعین نہیں کرتی ہے۔ لیکن اس قرارداد سے تمام یورپی ممالک کی حکومتوں اور پارلیمنٹوں پر بچوں کو سوشل میڈیا پر زہریلے ایکسپوژر سے بچانے کے لئے عمر  کی حد مقرر کرنے کے لئے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
ایک انترنیشنل خبر رساں ایجنسی کے مطابق یورپی پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی قراردار میں کہا گیا کہ 16 سےکم عمر افراد کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک رسائی کی اجازت نہ ہو۔

قرارداد میں کہا گیا کہ 16 سے کم عمرافراد  صرف والدین یا سرپرست کی اجازت سے سوشل میڈیا استعمال کر سکیں گے۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق قرارداد میں آن لائن سرگرمیوں کیلئے عمر کی حد 16 سال مقرر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد قانونی طور پرپابند نہیں یا کوئی پالیسی وضع نہیں کرتی لیکن اس سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ دنیا بھر میں کم عمر صارفین کی ذہنی صحت پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے خدشات بڑھ رہے ہیں، ان کو یورپی پارلیمنٹ تمام یورپی ممالک کے لئے سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی کے لئے قانون سازی کا مسودہ سینیٹ مین پیش کیا جا چکا ہے، جس پر پیش رفت سست ہے لیکن بہرحال اس کی مخالفت کسی طرف سے نہیں آئی۔

گزشتہ دنوں ملائیشیا نے 16 سال سےکم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا کے استعمال پرپابندی کا فیصلہ کیا تھا جبکہ رواں ماہ ہی ڈنمارک نے 15 سال سےکم عمر بچوں پر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر پابندی عائد کرنےکا فیصلہ کیا۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال آسٹریلیا میں بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا بل منظور کیا گیا تھا، اس حوالے سے امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف مقدمات بھی دائر کیے جا چکے ہیں۔