ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 موبائل صارفین پر ٹیکسوں کا بوجھ، پاکستان دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل

 موبائل صارفین پر ٹیکسوں کا بوجھ، پاکستان دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: عالمی معاشی تحقیقی ادارے فرنٹیئر اکنامکس نے اہم رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان بھی موبائل سروسز پر سب سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے والے ممالک میں شامل ہے جہاں موبائل سروسز پر مجموعی سیلز اور ٹرن اوور ٹیکس کی شرح 37 فیصد ہے اور یہ بھاری ٹیکس ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

 عالمی معاشی تحقیقی ادارے نے رپورٹ میں تجویز دی ہے کہ موبائل سروسز پر مجموعی 37 فیصد سیلز و ٹرن اوور ٹیکس کم کر کے 17 فیصد کیا جائے، صارفین سے وصول کیا جانے والا 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم، سالانہ ڈھائی فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کم کر کے 1 فیصد کی جائے، جنرل سیلز ٹیکس 19 اعشاریہ 5 فیصد سے کم کر کے 16 فیصد کیا جائے۔

 رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹیکسوں میں کمی سے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت، موبائل انٹرنیٹ استعمال اور حکومتی محصولات میں طویل المدتی اضافہ ممکن ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موبائل سروسز پر 19 اعشاریہ 5 فیصد سیلز ٹیکس، 15 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس اور 2 اعشاریہ 5 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی وصول کی جارہی ہے جبکہ موبائل کمپنیوں کے منافع پر 29 فیصد کارپوریٹ ٹیکس کے ساتھ 10 فیصد سپر ٹیکس بھی عائد ہے۔ مجوزہ ٹیکس اصلاحات کے بعد موبائل آپریٹرز کی آمدن میں تقریباً 6 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

 رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ موبائل سروسز ، سم کارڈز اور رسائی سے متعلق اضافی چارجز بھی ختم کیے جائیں، ٹیکس اصلاحات کو پاکستان کی وسیع تر ڈیجیٹلائزیشن حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے۔