سٹی42: غزہ میں سینکڑوں افراد حماس کنٹرول کے خلاف غیر معمولی مظاہروں میں شامل ہوئے۔ جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے 'حماس آؤٹ،'"ڈاؤن وِد حماس"۔ "ٹیررسٹ حماس"، 'ہم کھانا چاہتے ہیں' کے نعرے لگاتے ہوئے اور 'جنگ بند کرو' کے نعرے لگاتے ہوئے، پٹی میں کم از کم تین مقامات پر فلسطینیوں نے حماس کے خلاف غصے کا اظہار کرنے کے لیے احتجاجی مظاہرے کئے۔
غزہ کی پٹی جیسا ہی ایک جنگ مخالف احتجاج اسرائیل کے مرکزی شہر تل ابیب میں بھی ہوا لیکن اس میں عوام کے ضصے کا نشانہ نیتن یاہو کی حکومت تھی جس سے احتجاج کرنے والوں کو شکایت ہے کہ وہ حماس کی قید میں اب تک موجود 69 یرغمالیوں کو واپس لانے کے لئے حماس کے ساتھ ڈیل کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہی۔
سینکڑوں فلسطینیوں نے منگل کے روز غزہ میں کم از کم تین مقامات پر حماس کی حکمرانی کے خلاف اور جنگ کے خلاف احتجاج کیا، یہ ایک نسبتاً نایاب واقعہ ہے۔ غزہ کی پٹی میں اکثر و بیشتر سیاسی دہشت گرد گروہوں کے خلاف احتجاج نہیں کیا جاتا کیونکہ وہ احتجاج کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔
سوشل پلیٹ فارمز پر پوسٹ کی گئی کئی وڈیو کلپس میں شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیا کے 100 کے قریب رہائشیوں نے جنگ کے خاتمے اور حماس کی حکمرانی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دکھایا گیا۔
کچھ مظاہرین نے "جنگ بند کرو" اور "فلسطین میں بچے جینا چاہتے ہیں" کے نعرے اٹھا رکھے تھے۔
چند ویڈیو کلپس میں غزہ کے بے گھر رہائشیوں کو "حماس کو نکال باہر کرنے،" "حماس دہشت گرد"، "عوام حماس کو ختم کرنا چاہتے ہیں" اور "ہاں امن کے لیے، جاری جنگ کے لیے نہیں" کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔
انڈونیشیا کے ہسپتال کے سامنے قریبی علاقوں سے سینکڑوں مکینوں کا ایک اجتماع ہوا۔ مظاہرین میں سے کچھ نے سفید جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔
"میں نہیں جانتا کہ احتجاج کا اہتمام کس نے کیا،" احتجاج مین شامل ایک شخص محمد نے کہا، اس نے انتقامی کارروائیوں کے خوف سے اپنا آخری نام بتانے سے گریز کیا۔ اس نے بتایا، "میں نے عوام کی طرف سے ایک پیغام بھیجنے کے لئے حصہ لیا: جنگ کافی ہو چکی"، محمد نے مزید کہا کہ انہوں نے "حماس سیکورٹی فورسز " کے ارکان کو شہری لباس میں احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرتے ہوئے دیکھا ہے۔"
ایک احتجاج کرنے والے نے میڈیا نمائندوں کے سامنے کہا، اگر حماس کا غزہ میں اقتدار چھوڑنا ہی حل ہے تو حماس عوام کے تحفظ کے لیے اقتدار کیوں نہیں چھوڑتی۔
شمالی غزہ کی آباد بیت الاہیا میں پہلے احتجاج کی خبریں سوشل میڈیا میں آنے کے چند گھنٹے بعد، ایک اور جنگ مخالف اور حماس مخالف مظاہرہ شمالی غزہ کے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں کیا گیا، جس میں سینکڑوں مظاہرین نے ٹائر جلائے اور نعرے لگائے، "ہم روٹی چاہتے ہیں"۔
جیسے ہی مظاہروں کی خبر پھیلی، غزہ بھر میں دوسرے مظاہرے پھوٹ پڑے، غزہ کے بڑے جنوبی شہر خان یونس میں بھی احتجاج ہوا جہاں مظاہرین کو "حماس مردہ باد"،"ڈاؤن وِد حماس" کے نعرے لگاتے اور لڑائی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے فلمایا گیا۔
حماس نے اپنے خلاف ان احتجاجی مظاہروں پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا، لیکن حماس کی حامی کچھ میڈیا آؤٹ لیٹس نے ان واقعات کی تصاویر شائع کیں، جن میں حماس سے غزہ کی حکومت سے دستبرداری کے مطالبے کا ذکر نہیں کیا گیا ، حماس کے خاتمے کے مطالبات کا ذکر کیے بغیر ان احتجاجی مظاہروں کو "جنگ روکنے کا مظاہرہ" قرار دے کر رپورٹ کیا گیا۔
احتجاجی مظاہرے غزہ میں نسبتاً نایاب واقعات ہیں، خاص طور پر حماس کے خلاف، جس نے تقریباً دو دہائیاں قبل فلسطینی اتھارٹی کو اس علاقے سے بے دخل کرنے کے بعد سے اس پٹی پر آہنی گرفت برقرار رکھی ہے۔
اگرچہ 7 اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں لوگوں کی طرف سے حماس کی حکومت کے خلاف زیادہ عوامی بیانات سامنے آئے ہیں، لیکن اس گروپ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے تقریباً کبھی نہیں ہوئے۔
حالیہ احتجاجی مظاہروں سے چند روز پہلے فلسطین کی ریاست کی بانی تنظیم الفتح کے ترجمان نے ایل غیر معمولی بیان جاری کیا تھا جس میں حماس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ غزہ کو کنترول کرنے کے ارادے سے دستبردار ہو جائے کیونکہ اس کی وجہ سے فلسطینی تباہ ہو رہے ہیں۔

الفتح کی قیادت میں پی ایل او نے اسرائیل کے ساتھ طویل مسلح جدوجہد کے بعد بالآخر میز بر مذاکرات کئے تھے جن کے نتیجہ میں فلسطین کی الگ ریاست کے وجود کو اسرائیل نے تسلیم کیا تھا اور بین الاقوامی ضمانتوں کے ساتھ دریائے اردن کے مگربی کنارے اور غزہ کی ساحلی پٹی پر مشتمل فلسطین ریاست قائم ہوئی تھی جس میں فلسطینی اتھارٹی قائم ہوئی جس کا دارالحکومت رملہ ہے۔ الفتح کے لیڈر یاسر عرفات فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ تھے، ان کی وفات کے بعد سے ان کے قریبی ساتھی محمود عباس فلسطینی اتھارٹی کے صدرہیں۔ فلسطین کی ریاست کو اب تک آزاد ریاست کے مکمل اختیارات حاصل نہیں ہو سکے اور اسرائیل کو ان علاقوں میں موجودگی اور مداخلت کے غیر معمولی اختیارات حاصل ہیں کیونکہ اب تک دو ریاستی فارمولا پر مزید پیش رفت نہیں ہو سکی۔ فلسطین کے قیام (آزادی) کی جنگ لڑنے والی پی ایل او کی تنظیموں الفتح اور پاپولر فرنٹ نے مذاکرات کی میز پر آنے کے لئے اسرائیل کے ساتھ مسلح کونفلکٹ بند کر دی تھی۔

حماس(اور اسلامک جہاد) کے غزہ میں قیام کے بعد کچھ ہی سالوں میں ان تنظیموں نے غزہ کی پٹی میں افلتح اور پاپولر فرنٹ کے کارکنوں کے ساتھ جنگ شروع کر دی اور 2006 کے الیکشن میں غزہ میں حماس نے باقی تمام تنظیموں کا عملاً صفایا کر کے اپنی حکومت قائم کر لی۔ اس کے بعد یہاں سے الفتح اور دوسری پر امن فلسطینی تنطیموں کے کارکنوں کو یا تو مارا گیا یا علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔
حماس کے غزہ کی پٹی مین مسلسل اقتدار کا خاتمہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس (اور اسلامک جہاد) کے اسرائیل پر حملے سے ہوا۔ اس حملے کے نتیجے میں اسرائیل کے جوابی حملہ کر کے غزہ پر زمینی قبضہ کر لیا جو اب تک برقرار ہے تاہم جنوری میں ہونے والی جنگ بندی کے فوراً ہی بعد حماس کے کارکن عام غزن شہریوں کے ساتھ شمالی غزہ میں واپس آئے اور انہوں نے علاقہ مین دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کر لیا۔ منگل کے روز ہونے الے احتجاجی مظاہرے اس دوسری مرتبہ حماس کے کنٹرول کے خلاف تھے۔
غزہ کے جنگ مخالف مظاہرین نے 25 مارچ 2025 کو شمالی غزہ کی پٹی میں بیت لاہیا میں ایک پکڑی ہوئی ہے۔
حماس کے خلاف غزہ کی پٹی میں اس سے پہلے باقاعدہ رپورٹ ہونے والا دستاویزی احتجاج جنوری 2024 میں ہوا، جب دیر البلاغہ اور خان یونس میں فلسطینیوں نے غزہ پر حماس کی حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
سات اکتوبر 2023 کی جنگ سے پہلے بھی غزہ میں حماس مخالف مظاہرے نسبتاً نایاب واقعات تھے، اور اکثر ایسے مظاہروں کو حماس کی طرف سے پرتشدد طریقے سے دبا دیا جاتا تھا۔
ٹویٹر پوسٹ: شمالی غزہ میں انڈونیشیا کے ہسپتال کے سامنے زبردست احتجاج۔ احتجاج کا مطالبہ ہے: "ہاں امن کے لیے، حماس کی ظالمانہ حکومت کے لیے نہیں۔ غزہ میں جنگ کافی ہو چکی، تباہی کے لی اتنا ہی کافی ہے۔" مارچ 25، 2025
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ، جو 7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے وحشیانہ دہشت گردانہ حملے سے شروع ہوئی، غزہ میں 50,000 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں جن میں ھماس کے کارکنوں کی تعداد 20 ہزار سے کچھ زیادہ ہے اور باقی یا تو حماس کے کارکنوں کی فیملیز کے ارکان (عورتیں اور بچے) تھے یا غزہ کے وہ شہری جو حماس کی جنگی سرگرمیوں کا حصہ نہیں تھے لیکن حماس کے کٹرول کے علاقوں میں اس کی تنصیبات کے نزدیک رہ رہے تھے۔
غزہ میں اموات اور دیگر نقصانات کے اعداد و شمار آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ یہ اعداد و شمار عموماً حماس کی طرف سے ہی مقرر کئے گئے ہسپتالوں کے منتظمین کی طرف سے مرتب کئے گئے اور ان میں جنگجوؤں اور عام شہریوں میں فرق نہیں بتایا جاتا۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس نے جنوری کی جنگ بندی تک جنگ میں تقریباً 20,000 جنگجو اور 7 اکتوبر کو اسرائیل کے اندر جانے والوں میں سے 1,600 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ اسرائیل کا غزہ میں جینوسائیڈ کے الزامات کے حوالے سے مؤقف ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں کو کم سے کم کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل اس بات پر زور دیتا ہے کہ حماس غزہ کے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرتی ہے، گھروں، ہسپتالوں، اسکولوں اور مساجد سمیت شہری علاقوں سے لڑ رہی ہے اور جوابی حملوں میں ہسپتال، سکول اور مسجدیں بھی نشانہ بنتےہیں۔