سٹی42: چین میں یوں تو آئے روز ہی کچھ نہ کچھ انہونی ہوتی رہتی ہے، مئی کے مہینے میں چین نے ایسی انہونی کر ڈالی کہ دنیا جان کر حیران ہے۔
چین نے ماحول دوست توانائی کے منصوبوں پر توجہ دی تو اتنی توجہ دی کہ "ترقی یافتہ یورپ"، "ترقی یافتہ امریکہ" اور باقی ساری دنیا کو بہت پیچھے چھوڑ گیا۔ چین کے صرف پانچ ماہ کے گرین بجلی پیدا کرنے کے پروجیکٹس کئی ملکوں کی بجلی پیداوار سے زیادہ بجلی بنا رہے ہیں۔ گرین ترقی کے یہ فگرز دنیا کو حیران کر دینے والے ہیں۔
چین نے صرف ایک مہینے مئی میں ہوا اور سورج سے اتنی نئی بجلی پیدا کرلی جو مشرقی یورپ کے برے ملک پولینڈ کی بجلی کی ساری ضرورت پوری کرنے کے لیے کافی تھی۔
چین نے ماحول دوست توانائی کے انفرا اسٹرکچر کچھ ہی سال پہلے توجہ دینا شروع کی اور جناتی رفتار سے اتنا زیادہ کام کیا کہ اس شعبہ پر بہت پہلے سے کام کر رہی باقی دنیا بہت پیچھے رہ گئی۔مئی 2025 میں چین میں مزید 93 گیگا واٹ سولر منصوبوں کی تنصیب کی گئی ہے۔ ایک گیگا واٹ میں ایک ہزار میگاواٹ ہوتے ہیں، چین کے صرف ایک ماہ میں نصب کئے گئے سولر بجلی کے سسٹم سے بننے والی بجلی پاکستان کی بجلی کی کل استعداد سے دوگنا کے قریب ہے۔
مئی میں وہاں ہر سیکنڈ میں 100 نئے سولر پینلز لگائے گئے۔
اسی طرح 26 گیگا واٹ بجلی بنانے کے لئے ونڈ ٹربائن بے حساب لگائی جا رہی ہیں۔
سولر پینلز اور ونڈ ٹربائن سے بجلی کی پیداوار کا انحصار موسم پر ہوتا ہے اور اچھا موسم چین کے بہت وسعی علاقوں میں موجود رہتا ہے۔
محض مئی میں جتنا کام کیا گیا اس سے پولینڈ، سویڈن یا متحدہ عرب امارات کی ضروریات کے مطابق بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔
جنوری 2025 سےمئی کے دوران چین نے 198 گیگا واٹ بجلی سولر پینلز اور 46 گیگا واٹ بجلی ونڈ ٹربیونز سے حاصل کی جو کہ انڈونیشیا یا ترکیہ کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔
ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹیٹیوٹ کے ماہر Lauri Myllyvirta کے مطابق ہم جانتے ہیں کہ چین کی جانب سے سولر اور ونڈ پاور پر بہت زیادہ کام کیا جا رہا ہے مگر اب حالیہ مہینوں میں جو پیشرفت ہوئی وہ تو بس حیران کر ڈالنے والی ہے۔
اب صورتحال یہ ہے کہ چین کے سولر منصوبوں کی بجلی بنانے کی گنجائش پہلی بار ایک ہزار گیگا واٹ سے تجاوز کرگئی ہے جو باقی دنیا کے تمام سولر پروجیکٹس کے 50 کے برابر ہے۔
چین پر کچھ عرصہ پہلے صنعتی عمل میں ماحول کو برباد کرنے کا ظالمانہ الزام لگایا جاتا تھا حالانکہ چین مین بھی انڈسٹریز ویسے ہی کام کرتی ہین جیسے امریکہ میں۔ پھر چین کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ ماحول کو کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرنے والے فوسل فیول سے جو نقصٓن پہنچتا ہے اسے کم سے کم کیا جائے۔ اب چین صاف بجلی اتنی بڑی مقدار مین پیدا کر رہا ہے کہ چند ہی سال میں وہاں آٹو موبائل اور انڈسٹریل پروجیکٹس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بڑھانے والے فوسل فیولز کا استعمال شاید صفر ہی ہو جائے گا۔
چین کی اس انقلاب آفرین ترقی سے موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی روک تھام کی جاسکے گی۔
چین اپنی بہت بڑی صنعتوں کی وجہ سے اب تک دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بننے والی گیسوں کا اخراج کرنے والے بڑے ممالک میں سے ایک ہے مگر وہ ماحول دوست توانائی کی ٹیکنالوجی سپلائی کرنے والا یا منصوبوں پر کام کرنے والا سب سے بڑا ملک بھی ہے۔