ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

10 روپے کے نوٹ ختم؟ وفاقی کابینہ کاسکے متعارف کرانے پر غور

10 روپے کے نوٹ ختم؟ وفاقی کابینہ کاسکے متعارف کرانے پر غور
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے کرنسی نوٹ کی جگہ سکہ متعارف کرانے کی اصولی منظوری پر غور شروع کر دیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق اس اقدام سے آئندہ 10 برسوں میں 40 سے 50 ارب روپے تک کی ممکنہ بچت ہو سکتی ہے۔

وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تیار کردہ کرنسی مینجمنٹ رپورٹ کابینہ کو پیش کر دی گئی ہے۔ یہ رپورٹ  سٹیٹ بینک اور سکیورٹی پرنٹنگ کارپوریشن نے متعلقہ قوانین کے تحت مرتب کی۔

رپورٹ کے مطابق 10 روپے کے نوٹ کی اوسط عمر صرف 6 سے 9 ماہ ہے، جبکہ 10 روپے کا سکہ 20 سے 30 سال تک قابلِ استعمال رہتا ہے۔ ملک میں سالانہ چھپنے والے مجموعی کرنسی نوٹوں کا تقریباً 35 فیصد حصہ 10 روپے کے نوٹوں پر مشتمل ہے، جس سے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔

دستاویز کے مطابق 10 روپے کے نوٹ کی چھپائی، تبدیلی اور انتظامی اخراجات کا سالانہ تخمینہ 8 سے 10 ارب روپے ہے۔ اگرچہ سکے کی تیاری کی ابتدائی لاگت نسبتاً زیادہ ہوتی ہے، تاہم اسے دہائیوں تک دوبارہ تیار کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، جس سے طویل المدتی بچت ممکن ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ اسٹیٹ بینک مرحلہ وار تین سال کے دوران 10 روپے کے نوٹ کی چھپائی بند کرے۔

 یاد رہے کہ 10 روپے کا سکہ پہلی بار 24 اکتوبر 2016 کو جاری کیا گیا تھا، جبکہ نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنا اسٹیٹ بینک ایکٹ کے تحت قانونی عمل ہے۔

مزید برآں، رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت متعدد ممالک کم مالیت کے نوٹوں کو سکوں میں تبدیل کر چکے ہیں، اور نوٹوں کی چھپائی میں کمی کو گرین بینکنگ پالیسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔