ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے پیکا ایکٹ 2025 میں ترمیم کیخلاف ایک اور درخواست پر وفاقی حکومت سمیت دیگر حکام کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر نے پنجاب یونین آف جرنلسٹ کی درخواست پر سماعت کی جس میں پیکا ایکٹ میں ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے. یہ اپنی نوعیت کی تیسری درخواست ہے جس میں وفاقی حکومت سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ میں ترمیم سے پہلے کسی صحافتی تنظیم اور اسٹیک ہولڈر سے مشاورت نہیں کی گئی بلکہ فاسٹ ٹریک کے ذریعے اس منظور کرایا گیا ہے. درخواست میں اعتراض اٹھایا گیا کہ پیکا ترمیمی ایکٹ کے تحت فیک انفارمیشن پر تین برس قید اور جرمانے کی سزا ہو گی اور اس طرح پیکا ترمیمی ایکٹ میں نئی سزاؤں کے اضافے کے بعد رہی سہی آزادی ختم ہو جائے گی. درخواست میں یہ نکتہ اٹھایا گیا کہ پیکا ترمیمی ایکٹ آئین میں دی گئی آزادی اظہار کے تحفظ کے منافی ہے. درخواست میں استدعا کی گئی کہ پیکا ترمیمی ایکٹ کو غیر آئینی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے.