کورونا وائرس ،شہریوں نے گھروں کے باہر نوٹس لگانا شروع کردئیے

کورونا وائرس ،شہریوں نے گھروں کے باہر نوٹس لگانا شروع کردئیے

سعدیہ خان :احتیاط علاج سے بہتر ہے، کورونا وائرس سے بچنے کے لیے گھروں میں رہنا اور ملاقاتوں سے پرہیز ضروری، شہری نے گھر کے دروازے پر نوٹس آویزاں کردیا،نہ کوئی گھرسےباہر جاتا ہے اور نہ ہی باہر سے اندر آسکتا ہے۔

اپنا ٹائم آئے گا ابھی کورونا ہے،ہمیں اپنی زندگی پیاری ہے آپ بھی اپنی زندگی سے پیار کریں،گھر پر رہیے،ایمرجنسی کی صورت میں گھر آنے کی بجائے فون پر اطلاع دیں،یہ سب الفاظ اس گھر کے گیٹ پرآویزاں نوٹس پرلکھےگئےہیں۔شہری کا کہنا ہے کہ دروازے پر ہونے والی دستک کو بند دروازے سے ہی جواب دے دیا جاتا ہے،دوست احباب کچھ برا مانتےہیں مگر کیا کریں کورونا کو مات دینی ہے تو احتیاط برتنا ہوگی۔

اپنوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایسےاقدامات اٹھانا ضروری ہے،کورونا سے بچاو کے لیےاحتیاطی تدابیر پرصرف لفظوں کی حد تک ہی نہیں بلکہ عملی طور پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

 یاد رہے پاکستان میں  کورونا وائرس سے اب تک مجموعی طور پر 7 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جب کہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں مجموعی کیسز کی تعداد 1039 ہوگئی۔ملک میں  کورونا وائرس سے اب تک خیبرپختونخوا میں 3، بلوچستان، گلگت بلتستان، سندھ اور پنجاب میں ایک ایک ہلاکت ہوگئی۔مہلک وائرس سے اب تک 20 افراد صحتیاب ہوچکے ہیں جن میں سے 14 کا تعلق سندھ، 4 کا گلگت بلتستان اور 2 کا تعلق اسلام آباد سے ہے۔ملک بھر میں لاک ڈائون ہے،چھوٹے بڑے شہروں، پاک فوج،پولیس کے دستے تعینات ہیں۔