ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

 امریکی صدر ٹرمپ کا ایوان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام  

 امریکی صدر ٹرمپ کا ایوان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام  
کیپشن: File photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک:امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایوان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام ہوگئی۔ 

 کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران جنگ میں امریکا کو دھکیلنے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایوان میں مواخذہ کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔

 صدرٹرمپ کے مواخذے کی تحریک ڈیموکریٹ رکن کانگریس آل گرین نے پیش کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کیلئے صدارتی اختیارات کا غلط استعمال کیا۔

 ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک پیش کرنے کیلئے ٹیکساس کے رکن اسمبلی کی قرارداد پر ڈیموکریٹس بھی منقسم نظر آئے۔ کئی ڈیموکریٹک اراکین نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ تو بنایا مگر زیادہ تر نے مواخذے کی حمایت سے گریز کیا۔

  مواخذے کی تحریک سے متعلق قرارداد 79 کے مقابلے میں 344 ووٹ سے مسترد کردی گئی۔ 128 ڈیموکریٹس نے بھی مواخذے کے خلاف ری پبلکنز کا ساتھ دیا تاکہ قرارداد پیش نہ کی جاسکے۔

 قرارداد پیش کرتےہوئے رکن کانگریس آل گرین نے کہا تھا کہ انہیں یہ قدم اٹھانےمیں خوشی نہیں تاہم کسی ایک شخص کو 30 کروڑ افراد پر غلبہ کاحق نہیں ہونا چاہیے۔کانگریس کی منظوری کے بغیرجنگ میں نہیں جاناچاہیے۔

 آل گرین نے کہا کہ انہوں نے یہ اقدام اس لیے کیاکیونکہ اب آئین معنی خیزہوگا یا بےمعنی ہوجائےگا۔

 آل گرین صدر ٹرمپ کے شدید مخالفین میں سے ایک ہیں اور ان کے نزدیک ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو مطلق العنانیت کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ آل گرین کا کہنا تھاکہ انہوں نے مواخذے کا قدم اس لیے اٹھایا تاکہ تاریخ میں یہ بات یاد رہے کہ صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس کے اقدامات پر کم سے کم ایک رکن کانگریس نظر رکھے ہوئے تھا۔

  صدر ٹرمپ نے کہا کہ کارٹز کو واپس کوئنز جانا چاہیے اور گندی اورجرائم سے بھری سڑکیں صاف کرنی چاہئیں جس پر کارٹز نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ وہ برونکس کی لڑکی ہیں جو کوئنز کے لڑکوں کا ناشتہ کرلیتی ہیں۔

 صدر ٹرمپ نے ایک اور رکن کانگریس جیسمین کروکیٹ کی ذہانت کی سطح کو انتہائی پست قرار دیا اور کارٹزکا موازنہ ایک اور ڈیموکریٹک رکن کانگریس الہان عمر سے بھی کیا۔

 صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ صومالیہ سے تعلق رکھنے والی الہان عمر امریکا میں کیڑے نکالنے کے علاوہ کچھ نہیں کرتیں تاہم جس ناکام ملک سے وہ یہاں آئی ہیں،غربت اور جرائم کے اُس گڑھ کا دنیا میں کوئی درجہ ہی نہیں۔

 جہاں تک مواخذہ کا تعلق ہے تو صدر ٹرمپ کا پہلے دور حکومت میں بھی دو بار مواخذہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ پہلی بار صدر ٹرمپ کا مواخذہ سن 2019 میں کرنے کی کوشش کی گئی تھی جب انہوں نے یوکرین کیلئے فنڈزروکے تھے۔