سٹی 42: آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کو دیے گئے 72 گھنٹوں کے الٹی میٹم کے بعد وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایسوسی ایشن سے رابطہ کر لیا ہے، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان پیر کو اسلام آباد میں اہم مذاکرات ہوں گے۔
صدر آئل ٹینکرز کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن عابد اللہ آفریدی نے کہا کہ ملاقات کے دوران ٹینکر مالکان کے مطالبات پر تفصیلی بات چیت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم کر لیے تو اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا، بصورت دیگر آئندہ کے لائحہ عمل سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ پاکستان آئل ٹینکرز اور کنٹریکٹرز نے مشترکہ پریس کانفرنس میں حکومت کو 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیتے ہوئے وائٹ آئل پائپ لائن کے کوٹے میں اضافے، کمرشل لوڈنگ کے خاتمے اور آئل ٹینکرز کے کرایوں میں اضافے کا مطالبہ کیا تھا۔
ٹینکر مالکان کا مؤقف ہے کہ گزشتہ تین برس سے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ موٹروے اور این ایچ اے کے ٹول ٹیکس میں 180 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، اس لیے کرایوں میں بھی اسی تناسب سے نظرثانی کی جائے۔
عابد اللہ آفریدی نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے حکومت، اوگرا اور پیٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مذاکرات اور خط و کتابت جاری تھی، تاہم مطالبات پورے نہ ہونے کے باعث احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو ملک بھر میں آئل ٹینکرز کا پہیہ جام کیا جا سکتا ہے۔