سٹی 42 : وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کوئٹہ کا دورہ کیا، جہاں اُن کی وزیر اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات ہوئی ۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت بلوچستان میں امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا ۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے اجلاس کو صوبے کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، جاری اقدامات اور آئندہ حکمت عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔ اس دوران بلوچستان میں انسداد دہشت گردی فورس اور پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار مزید بہتر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
صوبے کی پولیں کو مضبوط کرنے کے فیصلوں پر پیش رفت تیز کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے درکار وسائل کی فراہمی میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔ بحالی امن کے لیے ماسٹر پلان پر فوری اور مؤثر عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی حکمت عملی میں سابق سربراہان بلوچستان پولیس کے تجربات اور مشاورت سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جدید ٹیکنالوجی، بہتر انٹیلی جنس اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے، وفاق اور بلوچستان حکومت امن کے قیام کے لیے مکمل یکجہتی اور ہم آہنگی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں ۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر محاذ پر ایک قدم آگے رہیں گے اور کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے، ریاست کی رٹ ہر قیمت پر قائم کی جائے گی اور دہشت گردوں کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ میرٹ کو فروغ دے کر نوجوانوں کا اعتماد بحال اور انہیں آگے بڑھنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ امن، ترقی اور خوشحالی ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، بلوچستان میں دونوں محاذوں پر بیک وقت پیش رفت یقینی بنائیں گے۔ وفاق کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام اور ترقیاتی منصوبوں پر مزید تیزی سے عملدرآمد کیا جائے گا۔