سٹی42 : انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم افغانستان مین خواتین کی کرکٹ ٹیم کے کھیلنے پر طالبان کی لگائی ہوئی پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے افغانستان کے مردوں کی ٹیم کے ساتھ میچ کو افغان کرکٹر خواتین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے کھیلے گی۔ انگلش کیپٹن نے کہا ہے کہ ان کا افغانستان کے ساتھ میچ افغان خواتین کو نئی امید دلائے گا۔
چیمپئینز ٹرافی کے گروپ میچ میں انگلینڈ کی ٹیم کو افغانستان ےک ساتھ میچ کھیلنا پڑ رہا ہے۔ یہ میچ کل لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں افغانستان کی طالبان حکومت نے ملک کی خواتین کی تیم کو کھیلنے سے منع کر دیا ہے اور افغانستان میں کرکٹ کے کھیل کو خواتین کیلئے ممنوع قرار دے دیا ہے۔ اس پابندی کے بعد سے انگلینڈ کی ٹیم پر دباؤ تھا کہ وہ افغانستان کی مردوں کی کرکٹ ٹیم کے ساتھ میچ نہ کھیلے۔
آج انگلش ٹیم کے کیپٹن جوز بٹلر نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم افغانستان کے مردوں کی ٹیم کے ساتھ میچ تو کھیلین گے لیکن یہ میچ افغان کرکتر خواتین کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے کھیلیں گے۔
جوز بٹلر نے کہا، افغانستان میں خواتین کی حالت زار پر افسوس ہے یہ میچ افغان خواتین کو امید دلائے گا
جوز بٹلر نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ میچ کھیلنا انگلینڈ کرکٹ بورڈ کا فیصلہ ہے۔انگلش کیپٹن نے کہا، ہمیں افغانستان میں خواتین کی حالت زار پر افسوس ہے وہ مشکل وقت سے گزر رہی ہیں۔ انگلینڈ اور افغانستان کا کل ہونے والا میچ افغان خواتین کو امید دلائے گا۔ مشکل وقت میں یہ میچ ان کے لیے تفریح ثابت ہوگا۔
جوز بٹلر کی کرکٹ پر بات چیت
انگلش ٹیم ک کی کل کے میچ کے لئے پلئینگ الیون پر بات کرتے ہوئے کیپٹن جوز بٹلر نے کہا کہ برائیڈن کارس کے باہر ہونے سے مایوسی ہوئی۔
جمی اوورٹن کے پاس اچھا چانس ہے امید ہے وہ فائدہ اٹھائیں گے۔ بٹلر نے کہا، افغانستان کی ٹیم بہتر سے بہتر ہو رہی ہے، افغانستان کے سپنرز اچھے ہیں۔
بٹلرنے کہا، گزشتہ میچ کی مثبت چیزوں کو آگے لے کر چلیں گے، ہماری ٹیم میں توازن ہے سپنرز اور پیس اٹیک ہے۔
بٹلر نے کہا، ہمیں ہیری بروک کی فارم ے متعلق کوئی پریشانی نہیں، ہیری بروک ٹیم کے اہم رکن ہیں۔ وہ باصلاحیت نوجوان کرکٹر ہیں۔
جوز بٹلر نے کہا کہ کرکٹ بورڈ اور ماہرین نے ہمیں افغانستان کے حوالے سے کافی کچھ بتایا جس سے ہمیں مدد ملی۔
آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 میں انگلینڈ اور افغانستان کی ٹیمیں کل لاہور چیمپئینز ٹرافی کا اہم گروپ میچ کھیلین گی۔ انگلینڈ اپنا پہلا میچ آسٹریلیا کے ساتھ قذافی میں ہی کھیلی تھی جہاں اس نے چیمپئینز ٹرافی کا سب سے بڑا ٹیم سکور کیا لیکن میچ ہار گئی۔
افغانستان کی ویمن کرکٹ ٹیم
افغانستان کی خواتین کی قومی کرکٹ ٹیم نے خواتین کے کچھ ہی بین الاقوامی کرکٹ میچوں میں افغانستان کی نمائندگی کی۔ یہ ٹیم پہلی بار 2010 میں قائم ہوئی تھی، لیکن خواتین کے کھیل کے مخالف اسلام پسندوں کی مخالفت کے درمیان اس نے صرف ایک ٹورنامنٹ کھیلا۔ افغانستان ویمن کرکٹ ٹیم کی بحالی کی کوشش 2020 میں اس وقت کی گئی جب افغانستان کرکٹ بورڈ نے 25 کھلاڑیوں کو سنٹرل کنٹریکٹ دیا تھا۔ تاہم، افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہو جانے کے بعد طالبان نے خواتین کے لئے ہر طرح کے کھیلوں کے دروازے بند کر دیئے اور خواتین کی کرکٹ ٹیم کی25 کھلاڑیوں کو دیئے گزشتہ حکومت کے سنٹرل کنٹریکٹ بھی منسوخ کر دیئے۔ 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد افغانستان کی ویمن کرکٹ ٹیم کو ختم کر دیا گیا تھا تاہم بمشکل تمام مردوں کی کرکٹ ٹیم کو کھیلتے رہنے کی اجازت ملی تھی۔
اس وقت سے دنیا کے کئی ممالک اور کرکٹ کی تنظیموں کے ساتھ انسانی حقوق کی تنظیمین بھی افغانستان کی طالبان حکومت سے خواتین کی کرکٹ ٹیم کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتی آ رہی ہیں۔ ۔