ہماری پیاری ڈولفن فورس

ہماری پیاری ڈولفن فورس
City42 - Dolphin Force

(ابو ذر معظم) انسان جب سے اس دنیا میں آیا ہے اس کی ترقی کرنے کی رفتار ہمیشہ سے تیز تر رہی ہے۔ انسان غلطی سے سیکھتا ہے اور خود میں بہتری لانے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور جو شخص یہ روش چھوڑ دیتا ہے وہ معاشرے میں پیچھے رہ جاتا ہے۔

اسی طرح ہرادارہ، معاشرہ، حکومت اپنی طرزِ زندگی یا طرزِ حکمرانی میں بہتری لانے کی کوشش کرتی ہے۔ جو معاشرہ یا حکومتیں تعلیم، صحت، ٹیکنالوجی میں ترقی وقت کی رفتار کے ساتھ لے آئیں وہ فرسٹ ورلڈ کہلاتی ہیں اور باقی سب ترقی پذیریا پھرتھرڈ ورلڈ کہلائی جاتی ہیں۔ اسی طرح ترقی یافتہ ممالک میں لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر کرنے کیلئے جدید پولیس کلچر متعارف کروایا گیا جو ٹیکنالوجی میں بھی کسی اور ادارے سے پیچھے نہ رہا اور بہترین نتائج دیئے گئے۔

آج ترقی یافتہ ممالک میں سکیورٹی کی صورتحال کا اندازہ لگانامشکل نہیں،لیکن ہمارے ملک میں ترقی کی رفتار تو سست ہے ہی لیکن اس حاصل کردہ ترقی کے استعمال کا شعور بھی اجاگر کرنا باقی ہے۔ کیا ہم جدید کیمرے اور(بلو ٹوتھ ڈیوائس) سے لیس پولیس کیلئے ذہنی طور پر تیار ہیں؟اس بات کا خیال مجھے ہماری ترکی سے متاثرہ ڈولفن فورس کے رویے اور کارکردگی کو دیکھ کر آیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ حکومت کی بھرپور کوششوں اور ارادوں کے مضبوط ہونے کی وجہ سے ایک جدید پولیسنگ نظام متعارف کروایا گیااور اربوں روپے لگا کر جدید موٹر سائیکلیں، اسلحہ،موبائل فونز،کیمروں سے لیس ہیلمٹ دیئے گئے اور اعلیٰ معیار کی ٹریننگ بھی کروائی گئی لیکن شعور نہ دیا جا سکا۔

اب تک ڈولفن فورس کے سات بیچز سے ہزاروں اہلکار5بڑے شہروں میں پولیسنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں اور اعدادو شمار کے مطابق کچھ نہ کچھ کارکردگی دکھائی بھی دیتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب ایک ذہنی معذور شخص جس کے ہاتھ میں چھری ہو اور وہ ایک عوامی جگہ پر چند افراد کو پریشان کر رہا ہو اس کو کنٹرول کرنے کی ٹریننگ سکھانے کے باوجود 6 سے 8 ڈولفن اہلکار موجود ہوتے ہوئے بھی اس شخص کو گولی مار کر ہلاک کر دیں تو پھر سوال آپ کی ٹریننگ پر نہیں آپ کے دماغی شعور پر آتا ہے۔جب کسی چور ڈاکو کا تعاقب کرتے ہوئے ایک راہ گیر جو دور ایک گلی میں کھڑا پانی بھر رہا تھا ڈولفن فورس کی گولیوں کا نشانہ بن جائے اور اس کے بعدایف آئی آر میں نامزد ہونے کے باوجود ان دونوں واقعات کے قصوروار ابھی بھی اپنی ڈیوٹی ادا کر رہے ہوںاور کسی حوالات کے پیچھے نہ ہوںتو پھر معاملہ آپ کے رویے پر آ کر رکتا ہے نہ کہ ٹریننگ پرایف آئی آر ہو چکی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

بہرحال یہ معاملہ تو ہمارے یہاں ہر دوسرے محکمے کا ہے کہ یہاں پوچھنے والا کوئی نہیں البتہ عوام دیکھ ضرور رہی ہے۔ ڈولفن فورس کا مقصد فوراً اور بہتر انداز میں عوام کے جان اورمال کا تحفظ تھا۔تنگ اور ویران گلیوں میں پٹرولنگ کرنا تھا۔لیکن آپ کو اکثر بڑی سڑکوں پر یہ نئے نئے بھرتی ہوئے ڈولفن فراٹے بھرتے اور آپس میں ایک دوسرے سے ریس لگاتے نظر آئیں گے۔500سی سی کی موٹر سائیکل چلاتے ہوئے سڑکوں پر دندناتے پھرتے یہ ڈولفن کے اہلکار آپ کو تحفظ سے زیادہ ہراساں کرتے نظر آتے ہیں۔

اپنی500سی سی کی موٹر سائیکل پر سگریٹ پیتے،موبائل سنتے،خواتین کو گھورتے اور نوجوانوں کو ہراساں کرتے یہ ڈولفن اہلکار آپ کو جب نظر آتے ہیں تو ہماری محافظ فورس کے اہلکار بھی بھلے لگنے لگتے ہیںاکثر علاقوں جن میں چوبرجی،سبزہ زار،کچا جیل روڈ شامل ہیںوہاں کے چائے اور فٹ پاتھ والے ہوٹلوں سے یہ شکایات مل رہی ہیں کہ صبح کا ناشتہ، چائے، بسکٹ ڈولفن کے اہلکار یہ کہہ کر مفت میں کھاتے اور پیتے ہیں کہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو بتانا! یا پھر میرا نمبر رکھ لو کوئی تنگ کرے تو بس ایک کال کرنا،ڈولفن حاضر!

تو یہ ہیں ہمارے پڑھے لکھے نئی جنریشن اور نئے جدید نظام کے ڈولفن اہلکار، کسی بھی سڑک کے بائیں ہاتھ کے کچے سے تیز تیز اپنی500 سی سی موٹر سائیکلیں گزارتے ہوئے اشارہ توڑ کر نکلنا۔شاید یہ ڈولفن کا اندازِ پٹرولنگ ہے۔ لیکن دوسرے شہروں سے آئے لوگوں کو ہراساں کرنا ان سے شناختی کارڈ لے کر"تمہارا کیا کیا جائے"پوچھنا اور پھر تھانے میں بند کرنے کی دھمکی دینا بھی شاید اس نوجوان اور تعلیم یافتہ ڈولفن اہلکار کو ٹریننگ میں سکھایا گیا ہو گا؟۔۔۔۔۔ہر گز نہیں۔یہ کسی بھی ٹریننگ سکول میں نہیں سکھایا جاتا بلکہ حقیقت میں شعورا بھی اندھیرے میں ہے۔۔۔۔۔ اور کچھ نہیں!

کئی ڈولفن اہلکاروں کے خلاف ضابطہ اخلاق اور ناحق کارکردگی کی وجہ سے کارروائی بھی کئی گئی ہے اور مزید بھی ان کی مانیٹرنگ ہونی چاہیے۔لیکن بات صرف مانیٹرنگ سے نہیں بلکہ شعور اجاگر کرنے سے ٹھیک ہو گی۔ان ڈولفن اہلکاروں کو یہ سمجھانا ہو گا کہ انسان کو جب طاقت دی جاتی ہے تو انسان بدل نہیں جاتا بلکہ اپنی اصلیت ظاہر کرتا ہے۔ان کو یہ سمجھانا ہو گا کہ فرض کیا ہوتا ہے۔اسلام تو ہمیں رواداری، اخلاق،بہتر رویہ اور دوسروں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے کا درس دیتا ہے نہ کہ لوگوں کی مشکلوں میں اضافہ کرنے کا،ان کو سمجھانا ہو گا۔ عوام دیکھ رہی ہے!ہمیں اس بات کو باور کروانا ہو گا کہ انسان اپنی غلطی سے نہ سیکھے تو وہ ظالم کہلاتا ہے!اور ظلم دائم ہوا نہیں کرتا۔!