سٹی 42 : وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ غزہ معصوم جانوں اور عالمی قوانین دونوں کا قبرستان بن چکا ہے, 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے, ہسپتالوں، سکولوں، اقوام متحدہ کی تنصیبات، امدادی قافلوں اور مہاجر کیمپوں کو نشانہ بنانا اجتماعی سزا کے بھیانک اقدامات ہیں۔
ان خیالات کا اظہار اسحاق ڈار نے 21 ویں غیر معمولی اجلاس وزرائے خارجہ کونسل (OIC) میں اپنے خطاب کے دوران کیا، کہا کہ مسلم اُمہ کے انتہائی نہایت نازک موقع پر یہ اہم اجلاس طلب کرنے پر ترکیے, ایران اور فلسطین کے مشکور ہیں, ہم اس وقت مل رہے ہیں جب غزہ لہو لہان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے عالمی قوانین، بین الاقوامی انسانی قوانین، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کے فیصلوں کی سنگین خلاف ورزی کھلے عام جاری ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 2 سال سے غزہ کو اندھا دھند بمباری، ناکہ بندی، قحط اور بھوک کا سامنا ہے، مغربی کنارے اور القدس میں بھی ظلم و جبر بڑھ رہا ہے, اسرائیل کا بنایا ہوا "انسانی ہمدردی کا نظام" محض دھوکہ ہے، قحط عام ہے اور شہری کھانے کے حصول پر گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی کابینہ کے حالیہ بیانات، جن میں غزہ پر مکمل فوجی قبضے اور "گریٹر اسرائیل" کے منصوبے کا ذکر شامل ہے, یہ سب اسرائیل کی غاصبانہ ذہنیت ظاہر کرتے ہیں، پاکستان ان خطرناک بیانات کی شدید مذمت کرتا ہے ۔
وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان عرب - اسلامی وزارتی کمیٹی کے ساتھ مل کر اسرائیلی عزائم کو ناجائز اور ناقابل قبول قرار دیتا ہے, پاکستان نے 31 عرب و اسلامی ممالک اور او آئی سی، عرب لیگ و خلیجی تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرلز کے مشترکہ بیان کی بھی تائید کی، اس بیان میں "گریٹر اسرائیل" کے تصور کو عرب سلامتی اور علاقائی امن کے لیے براہِ راست خطرہ قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم پاکستان کے نے بھی کہا ہے کہ اس المیہ کی جڑ اسرائیل کا غیرقانونی قبضہ ہے۔وزیر اعظم نے کہا ہے کہ جب تک یہ قبضہ ختم نہیں ہوتا، امن قائم نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان برادر عرب ممالک کے ساتھ ان کی خودمختاری اور آزادی کے دفاع میں کھڑا ہے, پاکستان اُن ممالک اور اداروں کی کوششوں کو سراہتا ہے جو غزہ میں امن و انصاف کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں, پاکستان فلسطین کی ریاستی حیثیت اور اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت کے حق میں بڑھتی عالمی حمایت کا خیرمقدم کرتا ہے, ہم ان ممالک پر زور دیتے ہیں جنہوں نے اب تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا کہ فوری طور پر ایسا کریں۔ اسحاق ڈار ںے کہا کہ دو ریاستی حل پر بین الاقوامی کانفرنس (28 جولائی، سعودی عرب و فرانس کی میزبانی میں) مثبت پیش رفت تھی، مگر اب مزید عملی اقدامات ضروری ہیں ۔
اسحاق ڈار نے دو ٹوک کہا کہ یہ لمحہ مسلم اُمہ کے لیے فیصلہ کن ہے, تاریخ ہمیں الفاظ سے نہیں، عمل سے پرکھے گی, فلسطینی صرف ہمدردی کے بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ او آئی سی کو اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ فلسطینی مسئلہ نام نہاد "قواعد پر مبنی عالمی نظام" کے لیے ایک کسوٹی ہے۔
وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان سات فوری اقدامات تجویز کرتا ہے, ان میں فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی, بلارکاوٹ اور محفوظ انسانی امداد کی فراہمی, UNRWA کے لیے نئی حمایت شامل ہے, ان میں جبری بے دخلی اور غیرقانونی بستیوں کا خاتمہ, غزہ کی تعمیرِ نو کا عرب-او آئی سی منصوبہ اور دو ریاستی حل کے لیے بامقصد سیاسی عمل بھی شامل ہے۔ اسرائیل کے جنگی جرائم پر احتساب بھی ان اقدامات میں شامل ہے۔ انہوں ںے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی کسی بھی بے حرمتی کو پاکستان ناقابلِ برداشت اشتعال انگیزی سمجھتا ہے, اسرائیلی اہلکاروں کی القدس میں دراندازی عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور مسلم اُمہ کے لیے کھلا چیلنج ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ سلامتی کونسل پر زور دیتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی حفاظتی فورس کی تعیناتی سمیت اسرائیل کے خلاف عملی اقدامات کرے، فلسطین پاکستان کی اولین ترجیح ہے, بطور غیر مستقل رکن سلامتی کونسل، پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، انصاف اور امن کے لیے عرب و اسلامی ممالک کے ساتھ جدوجہد جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ او آئی سی کو اب تماشائی نہیں بلکہ متحرک کردار ادا کرنا ہوگا، اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں, یہی وقت ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے ٹھوس قدم اٹھائے جائیں۔