ویب ڈیسک:بھارت کی جانب سےچھوڑے گئے سیلابی ریلے کے باعث دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کےمقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیداہوگئی،دوسری طرف سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت نے پاکستان سے رابطہ کرکے دریائے توی میں ممکنہ سیلاب سے آگاہ کر دیا۔
بھارت نے دریائے طوی میں جموں کے مقام پر ممکنہ بڑے سیلاب سے پاکستان کو آگاہ کیاہے،سیلاب کی ممکنہ صورتحال سے بھارتی ہائی کمیشن نے وزارت خارجہ کو باضابطہ اطلاع دی جوپاک بھارت جنگ کے بعد سیلابی صورتحال کےحوالے پہلا بڑا رابطہ ہے۔
دوسری طرف دریائے ستلج میں گنڈاسنگھ والاپراونچے درجےاورہیڈسلیمانکی پردرمیانے درجے کاسیلاب ہے،سیلاب کے باعث قصورمیں مزیدکئی علاقے ڈوب گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکٹرفصل تباہ ہوگئی ہیں،دریائےراوی میں بھی نچلے درجے کا سیلاب ہے،اوباڑو میں بھی نچلے درجے کی سیلابی صورتحال،رونتی کچے کے مختلف علاقے بھی سیلاب کی زد میں آگئے ہیں اورعلاقہ مکین محفوظ مقامات پر منتقل ہونے لگے ہیں۔
گجرات کے قریب بھمبر نالے میں طغیانی کے باعث زرعی اراضی زیر آب آگئی،مرالہ اورخانکی پربھی نچلے درجے کاسیلاب ہے،دریائے سندھ میں گڈواورسکھر بیراج پردرمیانے درجے کاسیلاب ہے،نالہ ایک ،بئیں اور بسنتر میں نچلے درجے کی سیلابی صورتحال ہے،اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی فلیش فلڈنگ کا خدشہ ظاہرکیاگیاہے۔
گنڈا سنگھ کےمقام پر پانی کی آمد ایک لاکھ 22ہزار 326 ریکارڈ کی گئی، لکھا سلدیرا،رحیم شاہ اور گاہی شاہ میں ہرطرف پانی،چشتیاں ساہوکا روڈ بھی پانی میں بہہ گئی،سیکڑوں گھرانے اور مویشی پانی میں گھر گئے،انتظامیہ نے امدادی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
گڈو اورسکھر بیراج پردرمیانے درجے کا سیلاب ہے،گڈو پر پانی کی آمد پانچ لاکھ چودہ ہزار آٹھ سو کیوسک جبکہ سکھر بیراج پر آمد چار لاکھ اٹھاسی ہزار کیوسک ریکارڈکی گئی ہے۔
ملکی دریاؤں اور آبی ذخائر کے تازہ ترین اعدادوشماربھی جاری کردیے گئے ہیں جس کے مطابق 3 بڑے ڈیمز میں پانی کا ذخیرہ ایک کروڑ 15 لاکھ 60 ہزار ایکڑ فٹ ہوگیا ہے۔
ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 56 لاکھ 82 ہزار ایکڑ فٹ، منگلا ڈیم میں 56 لاکھ 20 ہزار ایکڑ فٹ اورچشمہ بیراج میں دو لاکھ 58 ہزار ایکڑ فٹ پانی ہے،تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد دو لاکھ 31 ہزار 800 کیوسک، منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں پانی کی آمد 38 ہزار 400 کیوسک، چشمہ بیراج میں پانی کی آمد دو لاکھ 84 ہزار 900 کیوسک، ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں پانی کی آمد ایک لاکھ 27 ہزار 900 کیوسک جبکہ نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 46 ہزار 400 کیوسک ہے۔