ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جب بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو بات چیت ضرور ہونی چاہیے : بیرسٹر گوہر

 جب بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو بات چیت ضرور ہونی چاہیے : بیرسٹر گوہر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی 42: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے  پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو  کرتے ہوئے کہا جب بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو بات چیت ضرور ہونی چاہیے ۔۔حکومت کو کہوں گا لانگ مارچ میں آنے والے سیاسی لوگوں کے خلاف نٹ لانچر استعمال کرنے کا وقت نہیں۔

سپیکر صاحب  نے کس تناظر میں بات کی، میں نے ان کے عین الفاظ نہیں سنے اس لیے کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا۔اتنے سنجیدہ حالات میں جب بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے لانگ مارچ ہونے جا رہا ہو تو بات چیت ضرور ہونی چاہیے۔حکومت کو کہوں گا لانگ مارچ میں آنے والے سیاسی لوگوں کے خلاف نٹ لانچر استعمال کرنے کا وقت نہیں۔

سیاسی لوگوں پر نٹ لانچر استعمال نہیں کیے جاتے، ان کی بات سنی جاتی ہے اور شکایات حل کی جاتی ہیں۔سیاسی لوگوں کو انصاف دیا جاتا ہے، ان کی بات غور سے سنی جاتی ہے اور انا کو ایک طرف رکھا جاتا ہےیہ سارا معاملہ جنگِ انا بنا ہوا ہے، حکومت کو اپنی انا جھکانا ہوگی۔نٹ لانچر کا استعمال ختم کرکے کوئی ایسا راستہ نکالنا ہوگا جس سے سیرینٹی قائم ہو۔

ہم نہیں چاہتے عوام اور قانون کے رکھوالے ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں۔ہم کہہ رہے ہیں ہماری بات سنی جائے، ہم پرامن ہیں اور اپنے حقوق کے لیے نکل رہے ہیں۔ہم انصاف کی آواز اٹھا رہے ہیں، بارہا کہا ہمیں سنا نہیں گیا اور انصاف نہیں ملا۔

وزرا جو مرضی بیانات دیں، کسی وزیر نے یہ نہیں کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کی بات سنی اور انصاف دیا۔پارٹی نے اپنا پروگرام بہت پہلے اعلان کیا ہوا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔جہاں تک اعتماد کا تعلق ہے، سہیل آفریدی ہمارے وزیراعلیٰ ہیں۔بانی پی ٹی آئی کو سہیل آفریدی پر اعتماد ہے، ان شاء اللہ وہی وزیراعلیٰ رہیں گے

سہیل آفریدی کو ہم سب کی حمایت حاصل ہے، یہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ہیں۔خیبر پختونخوا میں غیر اعلانیہ گورنر راج ہے، ایسا بالکل نہیں ہونا چاہیے۔صوبہ خودمختار ہوتا ہے، اس کے عوام اور مینڈیٹ، وزیراعلیٰ اور ارکان اسمبلی کا احترام ہونا چاہیے۔کبھی کوئی وزیر اپنے ہی صوبے میں لاپتہ نہیں ہوتا، کبھی کوئی رکن اسمبلی سیاسی بنیادوں پر اپنے صوبے میں گرفتار نہیں ہوتا۔سیاسی بنیادوں پر ایک دوسرے کے گریبانوں میں ہاتھ ڈالنا غلط ہے، یہ سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

ہم بارہا باور کرا چکے ہیں کہ ہم پرامن ہیں۔حکومت کا ایک ٹولہ یہ تاثر دے رہا ہے کہ پی ٹی آئی آگے بڑھی تو اداروں اور اسلام آباد پر حملہ کرے گی۔ہم پرامن تھے، پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے، اداروں یا اسلام آباد پر حملہ نہیں کریں گے۔حکومت کو اس بیانیے اور تاثر کا بندوبست کرنا ہوگا۔اگر حکومت ایسا تاثر پیدا کرے گی تو بڑی تعداد رکھنے والی سیاسی جماعت کو سیاسی میدان سے نکال دیا جائے گا۔سیاسی جماعتوں کو سیاسی میدان سے نکالنے کے بڑے خطرناک نتائج ہوتے ہیں۔