ویب ڈیسک:خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کے سرکاری ملازمین کو بلاسود قرضے فراہم کرنے کا منصوبہ مرتب کرلیا ہےجس کا مقصد ملازمین کی مالی سہولت کو یقینی بنانا ہے۔ اس اسکیم کے تحت گریڈ 1 سے 17 تک ملازمین آسان اقساط پر قرضے حاصل کر سکیں گے اور اس کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں 34 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مراسلے کے مطابق سیکرٹریٹ ملازمین کے لیے 10 کروڑ روپے جبکہ باقی 24 کروڑ روپے دوسرے محکمہ جات کے ملازمین کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ اس قرض اسکیم کی دو بڑے اقسام متوقع ہیں: گاڑی کے لیے ایڈوانس (2 لاکھ روپے) اور گھر بنانے یا رہائشی کام کے لیے ایڈوانس (2 لاکھ 50 ہزار روپے)۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے معمولی عملے کو قرض فراہم کرنے کی ترجیح دی ہے تاکہ ان کو فوری مالی تعاون فراہم کیا جائے۔قرض کی ادائیگی قسطوں کی شکل میں کی جائے گی، اور اس مدت کا تعین ڈپارٹمنٹ یا متعلقہ مالیاتی قواعد کے مطابق ہوگا۔درخواست دہندگان کو ممکنہ طور پر ایک ضمانت یا سکیورٹی بانڈ فراہم کرنا پڑے گا تاکہ ادائیگی یقینی بن سکے۔
اس اسکیم کا نفاذ بنے والی بینیولنٹ فنڈ سیل کے تحت کیا جائے گا، جو حکومت کے دیگر فلاحی اقدامات کے ساتھ منسلک ہے۔
اس کے علاوہ قرض لینے والے ملازمین کو اس بات کی پابندی ہوگی کہ وہ حکومت کی ملازمت سے رخصت یا خدمات ترک کرنے کی صورت میں باقی قرض کی قسطیں تسلیم کریں گے۔اگر قرض لینے والا دورانِ ملازمت وفات پائے تو باقی قرض کی قسطیں معاف کرنے کی شق بھی شامل کی جائے گی، جیسا کہ دیگر بلاسود قرضوں میں ہوتا ہے۔
اس اسکیم کی بنیاد پر قرض صرف ایک قسم میں دی جائے گی (یعنی ایک ملازم بیک وقت گاڑی اور گھر دونوں کے لیے قرض نہیں لے سکے گا)۔
یہ بھی امکان ہے کہ انتخاب قرض دہندگان کا عمل قرعہ اندازی یا شفاف میکینزم کے تحت انجام دیا جائے، تاکہ بلا امتیاز تقسیم ممکن ہو۔مالیاتی شفافیت کے لیے قرض کی درخواست، منظوری اور وصولی کا ریکارڈ ڈیجیٹل سسٹم پر رکھا جائے گا تاکہ بدعنوانی سے بچاؤ ممکن ہو۔