ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

افغانستان کیلئے تجارتی راہداریاں بند رہیں گی، پاکستان کا اعلان

Pakistan Afghanistan Tension, City42 , Foreign Office, Taliban Regime
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ افغان سرحدی راہداریاں بند رہیں گی۔ پکاستان کے لئے تجارت سے زیادہ اہم ایک عام پاکستانی کی جان بچانا ہے۔

 پاکستان کے فارن آفس نے آج بتایا کہ گزشتہ ہفتے کی سنگین سکیورٹی صورتحال کے باعث افغان سرحدی راہداریاں بند رہیں گی۔ اشیا کی آمدو رفت اور تجارت سے زیادہ اہم ایک عام پاکستانی کی جان بچانا ہے۔
  فارن آفس کے ترجمان نے بتایا کہ  دوحہ مذاکرات میں ایک دستاویز پر اتفاق رائے اور دستخط ہوئے ہیں۔ افغان طالبان ریجیم اگر اس کو معاہدہ کہتی ہے یا نہیں کہتی، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
سوالات کے جواب مین فارن آفس کے ترجمان نے واضح کیا کہ دریائے چترال/ دریائے کنڑ سے متعلق عالمی قوانین کی پاسداری کریں گے۔

 افغان طالبان رجیم  نے چترال سے نکلنے والے دریائے چترال پر افغانستان کے اندر ڈیم بنانے کا اعلان کیا ہے، اس اعلان کے متعلق سوالات کے جواب میں پاکستان کے ترجمان نے کہا کہ ہم بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کریں گے۔
 
بھارت اور افغانستان کے تعلقات اور پاکستان کے خلاف گٹھ جوڑ کے متعلق سوالات کے جواب میں  کہا کہ بھارت کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنا 2 ممالک کا اندرونی معاملہ ہے، ہم دو ممالک کے اندرونی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے،ترجمان نے اس کے ساتھ یہ بھی کہا،  بھارت کا افغانستان میں کردار زیادہ مثبت نہیں رہا۔

اسرائیل س کے غزہ میں جاری حملوں کے بارے میں سوالات کے جواب مین پاکستان فارن آفس کے ترجمان نے کہا، اسرائیل تمام عالمی قوانین کی بھرپور خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔  ہم اس معاملے کو اجاگر کرتے رہیں گے۔ ہم نے اسرائیلی خلاف ورزیوں اور ان کی وجہ بننے والے اسرائیلی واقعات پرنظررکھی ہوئی ہے۔  فلسطینی ریاست کا قیام ہی وہ روڈ میپ ہے جس پر ہم قائم ہیں۔

 پاکستان میں افغانستان کے اندر سے دہشتگردوں کی مسلسل دراندازیوں سے جنم لینے والی سنگین صورتحال کے باعث چمن، خیبر، جنوبی و شمالی وزیرستان اور ضلع کرم کی سڑکوں سے متصل سرحدی راستے  14 ویں روز بھی بند  رہے، طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان سرحد پر سیکڑوں مال بردار گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔

فیڈرل بورڈ آف ریوینیو کا بیان

 ایف بی آر نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان  کی دوطرفہ تجارت سیکیورٹی مسائل کے باعث بدستور معطل ہے۔ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ دوطرفہ تجارت معطل ہونے سے پہلے  کسٹمز حکام نے طورخم، غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ بارڈر کراسنگ پر 363 درآمدی گاڑیوں کی کلیئرنس کر لی تھی ۔

طورخم پر 23 درآمدی گاڑیاں کلیئرنس کی منتظر ہیں۔

درآمد کنندگان نے تاحال گڈز ڈیکلریشن جمع نہیں کرائی ہیں۔

ان گاڑیوں میں کپڑا، پینٹ، مونگ پھلی اور دالوں جیسی  خراب  نہ ہونے والی اشیاء  لدی ہوئی  ہیں۔درآمدکنندگان کی جانب سےگڈز ڈیکلریشن جمع کرائے جانے کے فوراً بعد کسٹمز حکام  کلیئرنس مکمل کر لیں گے۔

سرحد کی بندش کے باعث برآمدی سامان والی 255 گاڑیاں طورخم ٹرمینل کے اندر کھڑی ہیں ۔

 تقریباً 200 گاڑیاں جمرود لنڈی کوتل روڈ پر پھنسی ہوئی ہیں۔

 غلام خان، خرلاچی اور انگور اڈہ بارڈر اسٹیشن پر کوئی درآمدی گاڑی کلیئرنس کی منتظر نہیں ہے۔

چمن بارڈر کسٹمز اسٹیشن پر 15 اکتوبر 2025 سے کسٹمز کلیئرنس آپریشنز معطل ہیں۔ 

چمن میں 5 درآمدی اور 23 برآمدی گاڑیاں پروسیسنگ کی منتظر ہیں جن کے مالکان نے اپنی  کھیپیں   واپس لے جانے سے انکار کر دیا ہے۔

اس وقت ٹرانزٹ  کھیپوں   کی تقریبا ً 495 گاڑیاں طورخم اور چمن پر سرحد پار کرنے کی منتظر ہیں۔ایف بی آر حکام نے بتایا کہ سرحدی مقامات پر کسٹمز عملہ موجود ہے سرحد کھلنے اور صورت حال معمول پر آنے پر  کلیئرنس کا عمل فوراً بحال کر دیا جائے گا۔