ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

حسد کے نقصانات

حسد کے نقصانات
کیپشن: file photo
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ویب ڈیسک:آج ہمارا معاشرہ انگنت برائیوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، ظاہری اور باطنی برائیوں میں ہمارا سماج غرق نظر آتا ہے، اخوت و محبت کا پیارا درس آج ہم نے فراموش کر دیا اور جھوٹ، غیبت، عداوت، بغض و عناد، حسد اور کینہ جیسی بیماریوں مبتلا ہیں۔

یہ وہ بیماریاں ہیں جن کی وجہ سے آج ہمارے سماج میں آپس کی قربتیں ختم اور دوریاں مقدر ہوتی جا رہی ہیں۔ جس معاشرے میں حسد و کینہ عام ہو جائے وہاں کبھی امن و سکون نہیں ہو سکتا۔ بد امنی اور اضطراب اس معاشرے کا مقدر بن جایا کرتی ہے، جس طرح انسان کے جسم کو بیماری لاحق ہوتی ہے، بالکل اسی طرح انسان کی روح بھی بیمار ہوتی ہے اور حسد انہی بیماریوں میں سے ایک مہلک بیماری ہے۔

حسد کے لغوی معنی کسی دوسرے کی نعمت یا خوبی کا زوال چاہنا یا اس کے نقصان ہونے کی خواہش رکھنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اﷲ تبارک و تعالیٰ نے کسی کو اپنی کچھ دنیاوی نعمتیں عطا کی ہوئی ہیں جیسے گاڑی، بنگلہ اور بے شمار مال و دولت تو اس کی خواہش ہوگی کہ وہ سب کچھ اس سے چھن جائے جس کی وجہ سے اسے راحت ملے۔ 

حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ''حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے، اور صدقہ گناہ کو ایسے مٹا دیتا ہے، جیسے پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔'' (صحیح، ابن ماجہ)

حضرت انس بن مالکؓ کا بیان ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، مفہوم: ''ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ غیبت کرو اور اﷲ تعالیٰ کے بندے اور بھائی بھائی ہوکر رہو اور کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے۔'' (صحیح بخاری)

آپ ﷺ کا فرمان ہے: ''بندہ خدا کے دل میں ایمان اور حسد جمع نہیں ہوتے۔''

اسلامی تعلیمات ہیں کہ ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے حسد کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیر موجودی میں ان کی عزت کے خلاف باتیں کرو بلکہ اﷲ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ حسد ہی کی وجہ سے قابیل نے کہا کہ میں تجھ کو ضرور قتل کروں گا، بالآخر قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا یہ دنیا کا پہلا قتل تھا اور اسکی بنیادی وجہ حسد کی بیماری تھی۔ حسد کی وجہ سے بھائیوں نے یوسف علیہ السلام کو ویران کنویں میں ڈالا اور حسد ہی کی وجہ سے نبی کریم ﷺ پر جادو کیا گیا۔ حسد کرنے والے کی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔ تین آدمیوں کی دعائیں قبول نہیں کی جاتیں: حرام کھانے والا۔ کثرت سے غیبت کرنے والا اور وہ شخص جس کے دل میں مسلمانوں کا بغض یا حسد ہو۔

جو انسان حسد کا شکار ہوتا ہے اس کی آخرت تو برباد ہوتی ہی ہے، دنیا میں بھی مختلف مصیبتوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسے ایسا غم لگ جاتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ایسی مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے جس پر کوئی اجر بھی نہیں۔ حسد کی وجہ سے اﷲ کی توجہ اور رحمت سے دوری ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے توفیق کے دروازے بند ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ تو چند دنیاوی عذاب ہیں، آخرت کا عذاب اس سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ یہ اﷲ کے فیصلے پر راضی نہیں ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں یہ مرض رچ بس چکا ہے۔ ہر شخص مخلوق کی نگاہ میں معزز بننا چاہتا ہے اس لیے جب اس کے سامنے کسی کی تعریف کی جاتی ہے تو اس سے برداشت نہیں ہوتا اور اس کے اندر حسد کی آگ بھڑکنے لگتی ہے جو کہ انتہائی شرم ناک بات ہے۔ حسد جیسی خطرناک بیماری کے بے شمار نقصانات ہیں لیکن ہم یہاں پانچ نقصانات کا ذکر کریں گے۔

حسد جیسی بیماری کا پہلا نقصان یہ ہے کہ وہ انسان کی عبادت اور پرہیزگاری کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔ 

 حاسد ہر وقت خواہ مخواہ مشقت اور پریشانی کا شکار رہتا ہے۔ ہ دل غفلت کے پردوں میں اتنا ڈوب جاتا ہے کہ اسے رب کائنات کی ذات بھی دکھائی نہیں دیتی یعنی اﷲ تبارک و تعالیٰ کے احکامات بھی اسے سمجھ نہیں آتے۔ حسد جیسی بیماری میں مبتلا انسان نہ تو اپنے مقصد میں کام یاب ہوتا ہے اور نہ ہی دشمن پر فتح یاب ہوتا ہے۔