ریلوے حادثات کی روک تھام کے حکومتی دعوے بےسود

ریلوے حادثات کی روک تھام کے حکومتی دعوے بےسود

( سعید احمد سعید ) محدود ٹرین آپریشن کے باوجود حادثات کم نہ ہوسکے، رواں سال 9 ماہ کے دوران 105 حادثات ہوئے، حادثات کے نتیجہ میں 53 افراد جاں بحق اور 55 زخمی ہوئے۔ ریلوے ہیڈکوارٹر نے جنوری تا ستمبر تک ٹرینوں کے حادثات کی رپورٹ مرتب کرلی۔  

محدود ٹرین آپریشن کے باوجود حادثات کم نہ ہوسکے۔ ذرائع کے مطابق رواں سال 9 ماہ کے دوران 105 حادثات ہوئے۔ حادثات میں ٹرینوں میں تصادم، آگ لگنے، ڈی ریلمنٹ اور مینڈ اور ان مینڈ لیول کراسنگ پر رونما ہوئے۔ جس کے نتیجہ میں 53 افراد جاں بحق اور 55 زخمی ہوئے۔ 9ماہ کے عرصے میں 56روز تک ٹرین آپریشن بند رہا۔

محدود ٹرینوں اور ٹرین آپریشن کی بندش کے باوجود ٹرین حادثات میں کم نہ ہوئے۔ حادثات کے انفراسٹکچر اور رولنگ اسٹاک کی تباہی سے ریلوے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔ ریلوے ہیڈکوارٹر نے جنوری تا ستمبر تک ٹرینوں کے حادثات کی رپورٹ مرتب کر لی ہے۔

ذرائع کے مطابق لاہور ڈویژن میں سب سے زیادہ 28 حادثات ہوئے۔ ٹرینوں میں آگ لگنے کے 5، مال گاڑیوں کے پٹری سے اترنے کے 33 اور روڈ ٹرانسپورٹ کی غلطی کے باعث 37 حادثات ہوئے۔ ریلوے اسٹاف کی غلطی کے باعث 14 حادثات ہوئے۔ بیشتر حادثات کی انکوائریاں تاحال مکمل نہ کی جا سکیں۔ یاد رہے گزشتہ برس 117 حادثات ہوئے تھے۔