سٹی42: پی ٹی آئی کے بانی کو اس وقت شدید جھٹکا لگا جب پاکستان کے وزیراعظم بانی کے خلاف مقدمہ میں جرح کے لئے خود کو عدالت میں پیش کر دیا۔ بانی کے وکیل نے وزیراعظم پر جرح کی عدالت نے مقدمہ کی سماعت کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لئے آئندہ سماعت 2 جون کو مقرر کر دی۔
یہ کیس8 سال تک لٹکائے جانے کے بعد اب دوبارہ تیزی سے سماعت ہو رہا ہے۔ اس التوا کے دوران مدعی شہباز شریف نے مقدمہ کو التوا سے نکال کر سماعت کے لئے مقرر کرنے کی درخواستیں دیں جنہیں عدالت نظر انداز کرتی رہی۔ اب دکھائی دے رہا ہے کہ عدالت اس لٹکے ہوئے مقدمہ کو جلد از جلد فیصلہ کرنے کی طرف جا رہی ہے۔ مدعی پر جرح مکمل ہونے کے بعد مدعا علیہہ کی باری آئے گی۔
آج ایڈیشنل سیشن جج یلماز علی نے ہرجانے کے دعوے پر دوبارہ سماعت شروع کی تو وزیر اعظم شہباز شریف جرح کے لیے ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔
جرح سے پہلے وزیراعظم کے انڈیا پر فتح کی مبارکباد دینے پر انہیں جوابی مبارکباد دی۔
وزیراعظم شہباز شریف بانی پی ٹی آئی کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کے کیس میں آج جمعہ کے روز ویڈیو لنک کے ذریعے لاہور کی عدالت میں پیش ہوئے۔
کیس کی سماعت کے آغاز پر وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ جج صاحب آپ سمیت کمرہ عدالت میں موجود تمام افراد کو فتح مبارک ہو۔ اس پر بانی کے وکیل نے کہا یہ بہت خوشی کی بات ہے، ساری قوم کی فتح ہے۔
آج کی سماعت کے دوران بانی کے وکیل نے بانی پر جھوٹے الزامات لگانے کی وجہ سے دس ارب روپے ہرجانہ کی درخواست دائر کرنے والے وزیراعظم شہباز شریف پر جرح کی۔
عمران خان کے وکیل نے جرح کرتے ہوئے شہباز شریف سے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ آپ نے دعوے میں اخبارات کو فریق نہیں بنایا اور نہ ہی لیگل نوٹس دیا ، کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے خود اخبارات کو بیان جاری نہیں کیا تھا؟
اس سوال پر شہباز شریف نے وضاحت کے ساتھ جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات درست نہیں، میں نے کوئی دوسرا دعویٰ دائر نہیں کیا۔28 اپریل 2017 کو عمران خان نے اسلام آباد کی پریڈ گراؤنڈ میں جلسہ کیا اور اگلے دن اخبارات میں اس کی خبر شائع ہوئی۔ (اس جلسہ میں بانی نے وہ الزامات لگائے جن پر شہباز شریف نے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا)
عمران خان کے وکیل نے شہباز شریف کے بیان پر جرح کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ نے دعوے میں پاناما کیس کا ذکر کیا ہے، اس کیس کے بارے میں کیا جانتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ محمد حسین چوٹیا صاحب بہت پروفیشنل ہیں، یہ بات پھر کہہ رہا ہوں، مجھ پر بہت بڑا بددیانتی کا الزام عائد کیا گیا تھا، 10 ارب روپے کا الزام لگایا گیا تھا، یہ سیدھا سا کیس ہے۔
وکیل نے شہباز شریف سے یہ پوچھا کہ پاناما کیس کا فیصلہ کیا ہوا تھا؟
شہباز شریف نے جواب دیا کہ پاناما کیس میرے خلاف نہیں تھا اس لیے فیصلے کا مجھےعلم نہیں۔
وکیل نے پوچھا کہ پاناما کیس میں فریق کون تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جواب دیا کہ میں فریق نہیں تھا۔ یہ سب کچھ ریکارڈ کا حصہ ہے۔
عمران خان کے وکیل نے بے بسی کے ساتھ اس موضوع کو گھسیٹتے ہوئے ایک اور سوال کیا؛
عمران خان کے وکیل نے سوال دہرایا کہ سپریم کورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور نواز شریف فریق ہیں۔ اس بظاہر مہمل سوال پر وزیر اعظم شہباز نے کہا، " وہ ہوں گے، لیکن میں فریق نہیں تھا۔"
شہباز شریف نے کہا کہ ان پر بڑا بددیانتی کا الزام لگایا گیا۔ عدالت نے مزید سماعت 2 جون 2025 تک ملتوی کر دی۔
وکیل نے جرح میں سوال کیا کہ عمران خان نےجو الزام لگایا، کیا وہ تحریری طور پر لگایا گیا؟
وزیر اعظم شہباز نے جواب دیا کہ جو الزام لگایا گیا وہ ٹی وی پر کئی بار دہرایا گیا۔
وکیل نے بظاہر اپنے مؤکل عمران خان کے الزام کو "سیاسی الزام" قرار دینے کی طرف جانے کی کوشش کرتے ہوئے سوال کیا؛ کیا آپ بھی سیاست میں اس طرح کے الزام لگاتے رہے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے کبھی بھی ثبوت کے بغیر بات نہیں کی۔
بانی کے وکیل نے بے بسی کے ساتھ ایک اور سوال کیا کہ عمران خان کی تقاریر اور بیانات کے محرکات کیا تھے؟
شہباز شریف نے کہا کہ یہ بات آپ انہی سے پوچھیں۔ عدالت نے سوال پر اعتراض کیا کہ یہ تو سوال ہی نہیں بنتا۔
مزید سماعت 2 جون کو ہو گی
عدالت نے مدعی شہباز شریف سے استفسار کیا، ’میاں صاحب، آئندہ کون سی تاریخ رکھی جائے، بتا دیں؟‘
شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ ’مجھے ترکی، آذربائیجان، ایران کے دورے پر جانا ہے۔‘
عدالت نے مزید کارروائی کے لیے سماعت 2 جون تک ملتوی کر دی۔
دس ارب روپے ہرجانہ کا کیس کیا ہے
"بانی"نے اپریل 2017 میں الزام لگایا تھا کہ (تب پنجاب کے وزیراعلیٰ) شہباز شریف نے "پاناما لیکس کے معاملے" پر چپ رہنے اور )عمران خان کے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے عمران خان کو 10 ارب روپے کی پیشکش کی تھی۔
بانی نے 28 اپریل 2017 کو اسلام آباد پریڈ گراؤنڈ میں ایک جلسہ کر کے اس جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے موجودہ وزیراعظم شہباز شریف پر الزام لگایا تھا کہ نواز شریف نے اپنے بھائی کے ذریعے بانی کو 10 ارب روپے رشوت کی پیشکش کی۔ اس الزام کی شہباز شریف اور مسلم لیگ ن نے فوری طور پر تردید کی تھی، یہ جھوٹا الزام لگانے پر عمران خان کی مذمت کی تھی اور بعد مین اس الزام تراشی پر عمران خان کے خلاف دس ارب روپے ہرجانہ کا مقدمہ بھی دائر کر دیا۔ اپنی درخواست مین شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے جلسہ میں یہ الزام تراشی کی ہے جس کا اثر کروڑوں پمفلٹس سے بھی زیادہ ہے۔
10 ارب روپے کی پیشکش کے اس الزام پر سات جولائی 2017 کو ہتک عزت کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے اُس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے عمران خان کے خلاف 10 ارب روپے ہرجانے کا کیس دائر کیا تھا۔
عمران خان وزیراعظم بنے اور جھوٹے الزام پر ہرجانے کا کیس لٹک گیا
نام نہاد پانامہ لیکس کے نام سے بہت زیادہ اچھالے گئے سکینڈل مین نواز شریف کا کوئی جرم نہیں نکلا، شہباز شریف اس معاملہ میں کہیں بھی ملوث نہیں نکلے لیکن اس نام نہاد سکینڈل کو لے کر نواز شریف کی وزارتِ عظمیٰ ختم ہو گئی، بعد میں عمران خان وزیراعظم بنے اور جھوٹے الزام پر ہرجانے کا کیس لٹک گیا
بعد ازاں، تین سال تک مقدمہ لٹکے رہنے کے بعد جون 2020 میں شہباز شریف نے اپنے وکیل مصطفیٰ رمدے کی وساطت سے عمران خان کے خلاف ہتک عزت کے دعوے کی جلد سماعت کی متفرق درخواست دائر کی تھی۔
اس درخواست میں شہباز شریف نے موقف اختیار کیا تھا کہ ہتک عزت کا دعویٰ 3 سال سے زیر التوا ہے، عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ دعویٰ کی جلد سماعت کی درخواست منظور کی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر درخواست پر سماعت کی جائے۔
لیکن تب بھی عمران خان وزیراعظم تھے، یہ مقدمہ ہنوز زیر التوا رہا۔
لاہور کی عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نے شہباز شریف ہرجانہ کیس کی سماعت کی۔