دلشاد راؤ:سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی مالی سال2016-17کےآڈٹ میں بےضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔
مجموعی طور پر 10 ارب 50 کروڑ سے زائد کی مالی بےضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی،پنجاب اسمبلی میں جمع رپورٹ نے سٹی ڈسٹرکٹ حکومت کی کارکردگی کاپول کھل گیا۔اربوں کےفنڈزکہاں خرچ کیے؟ریکارڈ ہی غائب نکلا۔
مجوزہ مالی سال کے دوران 8 ارب 20 کروڑ غیر مصدقہ وصولیاں کی گئیں،1ارب 30کروڑکے غیرمجازاخراجات ،57کروڑ36لاکھ کاریکارڈ ہی غائب کردیاگیا،سی ڈی جی ایل کے57کروڑ36لاکھ کاریکارڈ ہی آڈٹ ٹیم کوفراہم نہیں کیاگیا۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق 8ارب 20کروڑ کی مشکوک وصولیوں کی رقوم کےاستعمال کاکوئی ریکارڈنہیں ،سی ڈی جی ایل میں مالی بدنظمی عروج پر رہی۔سرکاری خزانےمیں 1ارب33کروڑروپےکی غیرقانونی ٹرانزیکشنزکی گئیں۔
سی ڈی جی ایل میں لاکھوں کے بلز اور اخراجات کا کوئی حساب موجود نہیں۔مالی ریکارڈ کی عدم فراہمی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے۔مالی سال 2016-17 میں5ارب73کروڑکی تفصیلات آڈٹ سےچھپائی گئیں۔
سرکاری فنڈزکاغلط استعمال، محکمانہ بدانتظامی کےباعث عوامی وسائل کا ضیاع کیاگیا،ضلعی حکومت کے مالی معاملات میں سنگین بے قاعدگیاں رپورٹ ہوئیں۔مالی سال 2016-17 کے اربوں روپے کے فنڈز کی غیر شفاف منتقلی بھی کی گئی۔