ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس آف پیس کی جانب سے بچے کے دادا، دادی اور والد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دس سالہ بچے کو دادا، دادی اور والد کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے بچے کی بازیابی اور جسٹس آف پیس کے حکم کے خلاف دائر درخواستیں نمٹا دیں۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عہبر گل خان نے آسیہ رشید کی درخواست اور بچے کی دادی کی جانب سے جسٹس آف پیس کے اندراج مقدمہ کےحکم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران سی سی پی او لاہور بلال صدیق کمیانہ اور ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران ذاتی حیثیت میں عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور دس سالہ بچے مرزا اظفر جلیس بیگ کو بھی عدالت میں پیش کیاعدالت نے بچے سے براہ راست استفسار کیا کہ وہ کس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔
بچے نے عدالت کو بتایا کہ وہ اپنی مرضی سے دادا، دادی کے ساتھ رہ رہا ہے اور آئندہ بھی انہی کے پاس رہنا چاہتا ہےفریقین کے دلائل اور بچے کے بیان کو ریکارڈ کرنے کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس آف پیس کی جانب سے بچے کے دادا، دادی اور والد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔عدالت نے بچے کی بازیابی سے متعلق درخواست بھی نمٹا دی اور قرار دیا کہ بچہ دادا، دادی اور والد کے ساتھ رہ سکتا ہے، کیونکہ عدالت کے سامنے بچے نے اپنی آزادانہ مرضی کا اظہار کیا ہے۔اس طرح عدالت نے جسٹس آف پیس کے اندراج مقدمہ کے حکم کے خلاف درخواست اور بچے کی بازیابی سے متعلق کارروائی دونوں نمٹاتے ہوئے کیس کا فیصلہ سنا دیا۔