بھاٹی گیٹ لرزہ خیز حادثہ، تین دوست جاں بحق ہوگئے

بھاٹی گیٹ لرزہ خیز حادثہ، تین دوست جاں بحق ہوگئے

(حسن خالد)لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں ڈمپر کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار تین افرادجاں بحق ہوگئے،تینوں آپس میں دوست تھے ،جاں بحق ہونے والوں میں عمر ، زاہد اور علی شامل ہیں.

تفصیلات کے مطابق لاہور میں تھانہ بھاٹی گیٹ کی حدود میں افسوسناک حادثہ پیش آیا، ڈمپر کی ٹکر سے موٹر سائیکل 3 افراد جاں بحق ہوگئے،تیز رفتار ڈمپر نے موٹر سائیکل سوار 3 دوستوں کو کچل دیا،ریسکیو اور پولیس اہلکار موقع پر پہنچ گئے،ریسکیو نے میتوں کو مردہ خانے منتقل کر دیا، پولیس کاکہناتھا کہ مرنے والوں میں خاندان کے دو افراد اور ایک ملازم تھا،جاں بحق ہونے والوں میں عمر ، زاہد اور علی شامل ہیں ۔ٹریفک حادثہ تھانہ بھاٹی کی حدود میں پیش آیا ۔

واضح رہےعصر حاضر میں مہینوں کا سفر گھنٹوں اور گھنٹوں کا سفر اب منٹوں میں طے ہورہا ہے،زندگی گزارنے کی بنیادی ضروریات میں نقل و حمل کو خاص توجہ حاصل رہی ہے۔ جدید دور میں ٹیکنالوجی میں ترقی کی بدولت آمدورفت کے ذرائع میں جدت پسندی واقع ہوئی ہے۔ یہی وجہ تھی جہاں قدیم ادوار میں چند گھنٹوں کا سفر دو سے تین دن میں طے پاتا تھا۔اب یہی سفر چند گھنٹوں کی مسافت سے طے ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں وقت کے ساتھ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے آج ہر تیسرے فرد کے پاس اپنی ذاتی گاڑی یا موٹرسائیکل موجود ہے۔

ٹریفک حادثات بھی اسی شرخ کے ساتھ بڑھ رہے ہیں،حکومتی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ منٹ کے بعد ٹریفک حادثہ پیش آتا ہے، جس میں کوئی نہ کوئی شخص زخمی یا جاں بحق ہوجاتا ہے۔2020 میں پاکستان میں سڑکوں پر ہونے والے حادثات 77 فیصد تک بڑھے۔سنگین حادثات کےن پیش آنے کی بڑی وجہ تیز رفتاری، ٹریفک قوانین کی پاسداری نہ کرنا اور بے ہنگم گاڑی چلانا،بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ  ڈرائیور حضرات ٹریفک سگنل کوتوڑکر گزرجاتے ہیں۔

 ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں 29.8 فیصد حادثات تیز رفتاری جبکہ 17 فیصد اموات ڈرائیورز کی بے باک ڈرائیورنگ کی وجہ سے ہوتی ہیں۔