سٹی 42: ایک قوم ایک شناخت وژن کے تحت وفاقی حکومت نے قومی شناختی کارڈ اور پاکستان اوریجن کارڈ قواعد میں ترامیم کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا
شناختی کارڈز میں کیو آر کوڈ پر مبنی ویری فکیشن کو قانونی تحفظ حاصل ہے ۔ مائیکروچِپ کی جگہ کیو آر کوڈ یا دیگر جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ۔
معطل شدہ شناختی کارڈ پر تمام ویری فکیشن اور تصدیقی سروسز فوری بند ہوں گی۔بائیومیٹرک سسٹم مزید مضبوط، فنگر پرنٹس اور آئی رس اسکین کی واضح شمولیت کی گئی ۔ سینئر سٹیزنز کیلئے تاحیات معیاد والا خصوصی شناختی کارڈ متعارف کروادیا گیا ۔ 60 سال یا زائد عمر کے شہریوں کے کارڈ پر نمایاں سینئر سٹیزن لوگو درج ہوگا۔
آزاد جموں و کشمیر کے رہائشیوں کیلئے کارڈ پر خصوصی اندراج لازمی قرار دیا گیا ۔ نادرا کو بدلتی ٹیکنالوجی اپنانے کا اختیار، بار بار قواعد میں ترمیم کی ضرورت ختم کردی ۔ نیشنل ڈیٹا ایکسچینج لیئر کے ذریعے ڈیجیٹل آئی ڈی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی تیاری کرلی ۔ جعلسازی اور نقالی کے خطرات کم کرنے کیلئے سخت تصدیقی کنٹرولز نافذ کی گئیں ۔
اوورسیز پاکستانیوں، معذور افراد، آرگن ڈونرز اور بچوں کے سرٹیفکیٹس کے نئے اسمارٹ فارمیٹس جاری کردیے ۔
ملک بھر میں یکساں شناختی کارڈ ڈیزائن اور جدید سیکیورٹی فیچرز کا اطلاق ہوگا۔ ڈیجیٹل گورننس کے فروغ اور شفاف سروس ڈلیوری کی جانب اہم پیش رفت کردی ۔
