علی ساہی: اب کریکٹر سرٹیفکیٹ میں بے گناہ افراد کا مجرمانہ ریکارڈ کو چھپانے کے لیے ویری فیکیشن کمیٹی کا اجلاس بلانے کی ضرورت نہیں ہے.
جاری مراسلہ میں کہا گیا کہ ایسے کیسز کے متعلق کوئی رپورٹ سی پی او دفتر کو نہیں بھیجی جائے گی، کریکٹر سرٹیفکیٹ میں ریکارڈ نئے پیٹرن کےمطابق خود بخود اپ ڈیٹ ہو جائے گا۔
15مختلف کالمز رکھے گئے ہیں جس کے مطابق کریکٹر سرٹیفکیٹ کا اپڈیٹ کیا جائے گا،تفتیش کے دوران بےگناہ،مقدمہ خارج ہونے،عدالت میں صلح نامہ پر بری ہونے پر ملوث نہیں کے ریمارکس دیےجائیں۔
عدالت میں ٹرائل کے دوران بےگناہ،سماعت مکمل ہونے کے بعدکیس میں بری ہونے پر بھی ملوث نہیں کے ریماکس دیےجائیں۔
مقدمات زیرسماعت پر انڈر ٹرائل،پولیس اشتہاری پر پولیس کو مطلوب اور عدالتی اشتہاری کو عدالت کو مطلوب کے ریمارکس شامل کئے جائیں گے۔
مراسلہ میں مز ید کہا گیا کہ عدالتی احکامات کےبعد پی آئی ٹی بی نے سافٹ وئیر کواپڈیٹ کردیا، آئی جی پنجاب کے حکم پر ترامیمی مراسلہ تمام متعلقہ افسران کوجاری کردیا۔
