ویب ڈیسک : ایف آئی اے نے ڈیجیٹائزیشن کی طرف اہم قدم اٹھاتے ہوئے کیس مینیجمنٹ سسٹم میں جدید اصلاحات متعارف کروا دیں۔
ڈائریکٹوریٹ آف انٹرنل اکاؤنٹیبلٹی نے اس حوالے سے تمام سرکلز کو خصوصی ہدایات جاری کر دی ہیں، جن کے تحت یکم جنوری 2026 سے تمام ایف آئی آرز صرف کمپیوٹر جنریٹڈ ہوں گی، شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی تمام شکایات کو بھی مکمل طور پر کمپیوٹرائز کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شکایات کی تصدیق، انکوائریز اور مقدمات صرف کیس مینیجمنٹ سسٹم کے ذریعے درج کیے جائیں گے، شہریوں کے لیے طلبی نوٹسز کا اجرا بھی اب کیو آر بیسڈ کر دیا گیا ہے۔ مقدمات کی تفتیش، ریکارڈ کی تیاری، اور عدالتوں میں چالان جمع کروانے کا عمل بھی اسی نظام کے تحت انجام پائے گا۔
ایف آئی اے ترجمان کے مطابق عوام کی شکایت سے لے کر مقدمے کے عدالتی فیصلے تک تمام تر ریکارڈ کو کمپیوٹرائز کر دیا گیا ہے، اور کیس مینیجمنٹ سسٹم کو سرکلز اور زونز کی کارکردگی کے تجزیے سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد تمام سرکلز میں کیس ہینڈلنگ، تفتیشی رپورٹنگ، اور عوامی سروس ڈلیوری کے نظام کو مزید مؤثر، تیز اور شفاف بنانا ہے۔ ان اقدامات سے ایف آئی اے کی پیشہ ورانہ صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور عوام کو تیز، شفاف اور بااعتماد خدمات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے گی۔