ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وہ علامات اور نشانیاں جو دیکھتے ہی ویزا مسترد یا منسوخ ہو سکتا ہے

وہ علامات اور نشانیاں جو دیکھتے ہی ویزا مسترد یا منسوخ ہو سکتا ہے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک: بیرونِ ملک ویزا حاصل کرنے یا برقرار رکھنے کے لیے غیر ملکی شہریوں کو محتاط رہنا ہوگا کیونکہ کچھ علامات اور نفرت انگیز مواد فوری طور پر ویزا ریجیکشن یا منسوخی کا سبب بن سکتی ہیں۔ 

حالیہ دنوں میں آسٹریلیا میں ایک واقعے نے اس رجحان کو واضح کر دیا ہے، جہاں نازی علامت کی تشہیر کرنے والے ایک برطانوی شہری کا ویزا منسوخ کر دیا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آسٹریلوی حکومت نے 43 سالہ شہری کا ویزا اس وقت منسوخ کیا جب اس پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر نازی علامت دکھانے اور یہودیوں کے خلاف تشدد کی ترغیب دینے کے الزامات عائد کیے گئے۔

آسٹریلوی وفاقی پولیس کے مطابق مذکورہ شخص نے اکتوبر سے نومبر کے دوران دو اکاؤنٹس کے ذریعے نازی نظریے کی حمایت اور یہودیوں کے خلاف نفرت انگیز مواد شائع کیا۔ وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ ویزا پر آنے والے افراد مہمان ہوتے ہیں، اور اگر کوئی نفرت پھیلانے کے لیے آئے تو اسے ملک چھوڑنا پڑے گا۔ ویزا منسوخی کے بعد اس شخص کو امیگریشن حراست میں لے لیا گیا ہے اور اسے یا تو رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنا ہوگا یا ڈی پورٹ کیا جائے گا۔

یہ اقدام سڈنی کے علاقے بونڈائی بیچ میں یہودی تقریب پر فائرنگ کے حالیہ واقعے کے بعد سامنے آیا، جس کے بعد حکومت نے یہود دشمنی اور نفرت انگیز سرگرمیوں کے خلاف قوانین مزید سخت کرنے کا اعلان کیا۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق مستقبل میں صرف نفرت انگیز مواد کی ترغیب بھی ویزا منسوخی کے لیے کافی ہو گی، چاہے براہِ راست تشدد ثابت نہ بھی ہو۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس واضح پیغام ہے کہ نازی علامت، نفرت انگیز نظریات اور نسل پرستانہ مواد اب صرف یورپ ہی نہیں بلکہ دیگر ترقی یافتہ ممالک میں بھی سخت امیگریشن کارروائی کا سبب بن رہے ہیں اور ایسے رویے غیر ملکیوں کے لیے ویزا حاصل کرنا یا برقرار رکھنا مشکل بنا سکتے ہیں۔