ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو دی گئی کم سزا کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اہم عدالتی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ایک کلوگرام سے زائد چرس کی برآمدگی پر قانون کے مطابق کم از کم 9 سال قید کی سزا لازم ہے
لاہور ہائیکورٹ نے 1500 گرام چرس برآمدگی کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے ملزم کو سنائی گئی ساڑھے چار سال قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایک کلوگرام سے زائد چرس کی برآمدگی پر قانون کے مطابق کم از کم 9 سال قید کی سزا لازم ہے، جبکہ ٹرائل کورٹ نے قانونی حد سے کم سزا سنائی جو قانون کے منافی ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ منشیات سے متعلق مقدمات میں ترمیمی ایکٹ 2022 کے بعد سزا کے تعین کے لیے واضح قانونی فریم ورک موجود ہے، جس کے تحت عدالتیں کم از کم مقررہ سزا دینے کی پابند ہیں۔ ٹرائل کورٹ نے سزا سناتے وقت اس قانونی تقاضے کو نظر انداز کیا۔جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کا 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کیا، جسے عدالتی نظیر بھی قرار دیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق ملزم عمران عرف باو نے اپنی جیل اپیل میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی ساڑھے چار سال قید کی سزا کو چیلنج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔عدالت نے اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کیس دوبارہ ٹرائل کے لیے ریمانڈ کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ ملزم محمد عمران عرف باو کو دوبارہ ٹرائل کورٹ میں پیش کیا جائے اور کیس کا ازسرنو قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ دو رکنی بینچ نے فیصل آباد کی خصوصی عدالت کو ہدایت کی ہے کہ ایک ماہ کے اندر دوبارہ ٹرائل مکمل کرکے قانون کے مطابق فیصلہ سنایا جائے۔یہ مقدمہ تھانہ بٹالہ کالونی، فیصل آباد میں درج کیا گیا تھا، جس میں ملزم کے خلاف 1500 گرام چرس برآمدگی کا الزام عائد تھا۔