ملک اشرف : لاہور ہائیکورٹ نے فرانزک سائنس اتھارٹی کی رپورٹس کی تاخیر پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے ہوم سیکرٹری پنجاب نور الامین مینگل کو 26 مئی کو طلب کرلیا ،عدالت نے ریمارکس دئیے کہ فرانزک سائنس اتھارٹی کی رپورٹس میں تاخیر کے باعث مقدمات کے فیصلے بروقت نہیں ہورہے ۔
جسٹس سیدشہبازعلی رضوی نےمنشیات کےملزم سیداعجازحیدر کی درخواست ضمانت پرسماعت کی، ڈی جی فرانزنک سائنس اتھارٹی ڈاکٹرامجد، ایس پی ماڈل ٹاؤن سدرہ خان سمیت دیگر افسران پیش ہوئے، جبکہ پراسیکیویشن کی جانب سے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل محمد اسد تحریم بیگ پیش ہوئے، جسٹس سید شہبازعلی رضوی نے ڈی جی فرانزک سائنس اتھارٹی سے مکالمہ کرتے ہوئےکہا آپ کی رپورٹس بروقت نہیں آرہیں، ڈی جی پی ایس اے نےجواب دیا سال میں25 ہزار سے زائد کی رپورٹس ہوتی ہیں، ایک اینالسٹ نے تقریباً دو ہزاررپورٹس تیارکرنا ہوتی ہیں۔ ہوم سیکرٹری کواینالسٹ کی تعداد پوری کرنے کیلئےمراسلہ لکھا، لیکن کوئی پیشرفت نہیں ہوئی،جسٹس سید شہبازعلی رضوی نے ریمارکس دیئے دوماہ تک رزلٹ نہیں آئیگا توعدالتیں کس طرح فیصلہ کریں گی، ڈی جی فرانزک سائنس اتھارٹی نےکہا ہم نے تو ہوم ڈیپارٹمنٹ کو درخواست کی ہوئی ہے، وہی ابھی تک کچھ نہیں کررہے۔ عدالت نے ایس پی سدرہ خان سے رپورٹس میں تاخیر کو دور کرنے کیلئے اقدامات نہ کرنے پراظہارناراضگی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے ایسا میکانزم اختیارکریں کہ اگر تیس روزمیں رپورٹ موصول ہوتواس پر سسٹم اس کی نشاندہی کرے،عدالت نے ایس پی سدرہ خان سے کہا عدالتی معاملات کوسنجیدہ لیا کریں، عدالت نے ہوم سیکرٹری کوطلب کرتے ہوئے سماعت پیرتک ملتوی کردی۔
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App