ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

وائرلیس انٹرنیٹ کا نیا ورژن وائی فائی 8 کس حد تک بہتر ہوگا؟

وائرلیس انٹرنیٹ کا نیا ورژن وائی فائی 8 کس حد تک بہتر ہوگا؟
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

ویب ڈیسک : وائرلیس کمیونیکیشن کا نیکسٹ جنریشن ورژن وائی فائی 7 ہی ابھی تک مکمل طور پر متعارف نہیں کرایا جاسکا مگر اس سے اگلے ورژن بھی جلد پیش ہونے والا ہے۔

گزشتہ برسوں میں وائی فائی اسٹینڈرڈز میں بہت زیادہ بہتری آئی ہے مگر عام طور پر ان کی مکمل رفتار لیبارٹری سے باہر صارفین کو دستیاب نہیں ہوتی۔

جب وائی فائی 7 کا اعلان کیا گیا تو اس کا ڈیٹا ریٹ 46 جی بی پی ایس قرار دیا گیا تھا جبکہ وائی فائی 8 میں بھی 46 جی بی پی ایس کو برقرار رکھے جانے کا امکان ہے، مگر اس میں رفتار کی بجائے پائیداری پر زیادہ توجہ مرکوز کی جائے گی۔

وائی فائی 8 (802.11bn) کو الٹرا ہائی رئیلابیلٹی کا نام بھی دیا گیا ہے جس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ پائیداری اس نئے اسٹینڈرڈ کا بنیادی مرکز ہوگی۔

وائی فائی 8 کی رفتار بھی حقیقی دنیا میں وائی فائی 7 کے مقابلے میں نمایاں حد تک بہتر ہوگی۔

وائی فائی 7 کی طرح وائی فائی 8 میں بھی 2.4 گیگا ہرٹز، 5 گیگا ہرٹز اور 6 گیگا ہرٹز بینڈز کو استعمال کیا جائے گا۔

مگر جیسا اوپر درج کیا جاچکا ہے کہ اس کا بنیادی مقصد حقیقی دنیا میں وائی فائی کی کارکردگی کو بہتر بنانا اور کنکشن کا استحکام برقرار رکھنا ہے۔

یعنی کم سگنل پر بھی بہتر سروس فراہم کرنا اس کا مقصد ہوگا۔

پرانے اسٹینڈرڈز کے مقابلے میں وائی فائی 8 سے ایک وقت میں زیادہ ڈیوائسز کو استعمال کرنا ممکن ہوگا۔

اس طرح صارفین کو گیمنگ اور اسٹریمنگ کا بہترین تجربہ ملے گا جبکہ انٹرنیٹ فریز ہونے کا خطرہ کم ہوگا۔

اس نئے اسٹینڈرڈ کا بنیادی مقصد وائی فائی صارفین کو درپیش چند اہم مسائل سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔

وائی فائی 8 میں ڈیڈ زون کوریج کے مسئلے کا حل بھی صارفین کو دستیاب ہوگا جبکہ بہت زیادہ ڈیوائسز والے مقام پر بھی انٹرنیٹ سگنل متاثر نہیں ہوں گے۔

اس سے قبل جولائی 2025 میں کوالکوم نے ایک بلاگ پوسٹ میں نئے وائی فائی اسٹینڈرڈ کے بارے میں کہا تھا کہ اس کا مقصد زیادہ تیز بینڈودتھ اسپیڈ کی بجائے ڈیوائسز کو آن لائن رکھنے اور مستحکم کنکشن کے لیے مدد فراہم کرنا ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف الیکٹریکل اینڈ الیکٹرونکس انجینئرز کی جانب سے 2027 میں وائی فائی 8 اسٹینڈرڈ کو حتمی شکل دیے جانے کا امکان ہے جبکہ اس کی دستیابی 2028 میں شروع ہوسکتی ہے۔

Ansa Awais

Content Writer