وائس چانسلرز کو ’’ہیڈ ماسٹرز‘‘ بنانے کی تیار یاں

 وائس چانسلرز کو ’’ہیڈ ماسٹرز‘‘ بنانے کی تیار یاں

سٹی 42 :ملک میں  سیاسی تقسیم بڑھتی جاری ہے،ایک طرف کورونا تو دوسری طرف بدانتظامی ،حالات کب ٹھیک ہوں گے؟ صحت اور تعلیم کو پی ٹی آئی دور میں کتنی اہمیت ملی ؟ یونیورسٹیوں کا بجٹ آدھا کردیا گیا،حکومت نے چندے سے چلانے کا مشورہ دے دیا ۔کیا یہ فیصلہ ٹھیک ہے؟ اب یو نیورسٹیز کے وائس چانسلرز کے اختیارات کم کرنے کا آرڈیننس لایا جارہا ہے چونکہ وائس چانسلرز کو ’’ہیڈ ماسٹرز‘‘ بنانے کی تیار یاں ہیں۔

پنجاب کے گورنر دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اب وائس چانسلرز چور دروازوں سے نہیں آتے،اب جو آرڈیننس لایا جارہا ہے وہ ان کے دعوئوں کے برعکس ہے،ایک ایسا مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت ایسے شخص کو بھی وائس چانسلر لگایا جاسکتا ہے جس نے اپلائی بھی نہ کیا ہو۔دوسرا یہ کہ وہ سینڈیکیٹ کے اجلاس کی صدارت نہیں کرسکے گا۔سینڈیکیٹ کی پاور ز کو ختم کیا جارہا ہے،یہ وائس چانسلرز کو سیکرٹری بنانا چاہتے ہیں۔ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے بیوروکریٹس کو مسلط کرنے کا پروگرام ہے۔

ترمیمی مسودہ بدنیتی پر مبنی ہے،وائس چانسلرز کو ڈپٹی سیکرٹری کی سطح پر لایا جارہا یعنی ایک وائس چانسلر اور ہیڈ ماسٹر ایک صف میں کھڑے  ہوجائیں گے۔وائس چانسلر کا تعلق براہ راست گورنرز سے ہوتا ہے،جامعات کی آزادی کو سلسلسہ وار سلب کیا جارہا ہے،کچھ مسائل جامعات کے اندر ہیں کہ تعلیمی معیار دائو پر لگا ہوا ہے۔ماہرین تعلیم کہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ہر بندہ اپنی اپنی بولی بول رہا ہے،ہمارے ملک میں سب سے بڑا مسئلہ میرٹ کی کمی ہے،قیادت لانے میں بھی میرٹ کو نہیں دیکھا جاتا۔جو بھی حکمران بنتا ہے اپنی دلچسپی کے لوگ لے آتے ہیں۔سردار عثمان بزدار کو جامعات میں وائس چانسلرز کے اختیارات سلب کرنے کا پتا نہیں آئیڈیا کس نے دے دیا۔

یاد رہے ہمارا تعلیمی معیار 1947 میں ایسا نہیں تھا جیسا اب ہوگیا ہے، پنجاب یونیورسٹی نے 1947 سے پہلے تین نوبل پرائز جیتے۔جامعات کے وائس چانسلرز کا ایک مقام ہوتا تھا۔آج وائس چانسلرز کو ہیڈ ماسٹرز کی سطح پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے،اس کی ذمہ  دار جامعات خود ہیں۔تعلیم ٹھیک نہیں ہوتی عجیب و غریب حرکتیں کی جارہی ہے۔

 خیال رہے وائس چانسلر  پنجاب یونیورسٹی نے ترمیمی ایکٹ کو سرکاری ادارے تباہ کرنے کے مترادف قرار دے دیا۔کہتے ہیں کہ سرکاری سکولوں، کالجوں، ہسپتالوں، ٹرانسپورٹ کی طرح سرکاری یونیورسٹیوں کو تباہ کرنے کی پالیسی دہرانی نہیں چاہئیے۔ دوسری جانب وائس چانسلر جی سی یونیورسٹی نے بھی یونیورسٹیز ترمیمی ایکٹ پر کڑی تنقید کی۔