ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

  جعلی ملازمت سکیمیں، نوجوانوں کیلئے اہم ایڈوائزری آ گئی

Freelancing jobs frauds, Social platform's frauds, scams alert
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42:  انٹرنیٹ پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم انجان لوگوں کے لئے مکڑی کے جالے جیسی شکار گاہ بن گئے، ہر طرح کا فراڈ کرنے والے گروہوں کی شکل میں سادہ مزاج اور کم معلومات رکھنے والے شہریوں پر منظم حملے کر کے انہیں ٹھگ کر رقم سے محروم کرنے سے لے کر اس سے بھی بڑے نقصانات پہنچا رہے ہیں۔

 جعلی ملازمت سکیموں کے ذریعے شہریوں کو لوٹنے کا دھندا حد سے زیادہ بڑھ جانے پر نیشنل کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے شہریوں کیلئے ایڈوائزی جاری کردی  ہے۔

 ایڈوائزی  میں بتایا گیا ہے کہ نوجوان، طلبہ اور "فری لانسر" سائبر کرمنلز کے نشانے پر  ہیں۔  جعلی فری لانسنگ نوکری کے نام سے شہریوں کو  ٹھگا اور بلیک میل کیا جا رہا ہے۔

بے روزگار نوجوانوں اور فری لانسرز کو جعلسازوں کے بنائے ہوئے  وٹس ایپ گروپ میں شامل کیا جاتا ہے۔

وہاں کچھ شہریوں کو وٹس ایپ پر فحش مواد دکھا کر بلیک میل کیا جاتا ہے۔

  قانونی اداروں کے جعلی اہلکار بن کر متاثرین سے 10 سے 15 لاکھ روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔

سائبر کرمنل  گروہ سوشل میڈیا پروفائلز کو شکار پھانسنےکے لیے استعمال کرتے ہیں۔

نیشنل سرٹ نے  صارفین کو مشکوک وٹس ایپ اور دوسرے سوشل میڈیا گروپ فوراً  چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔

 نیشنل سرٹ ایڈوائزی  نے کہا،  فحش مواد کو آگے پھیلانا بھی جرم بن سکتا ہے۔

نیشنل سرٹ نے صارفین کو غیر مصدقہ جاب آفرز سے بچنے کی ہدایت  بھی کی اور کہا،  صارفین سوشل میڈیا پر اپنی پرائیویسی سیٹنگز محدود کریں۔

نوجوان فری لانسنگ جابز کیلئے معروف فری لانسنگ ویب سائٹس ہی استعمال کریں۔

صارفین کو بلیک میلنگ کا سامنا ہو تو خاموش نہ رہیں، رپورٹ کریں۔   شکایات درج کرانے کے لیے نیشنل سرٹ، پی ٹی اے پورٹل استعمال کریں۔صارفین این سی سی آئی اے پورٹل پر بھی ایسی سرگرمیاں رپورٹ کریں۔