ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

سینکڑوں ارب روپےبینک فراڈ کا معاملہ؛بڑے صنعتکار کے گھر اور کئی ٹھکانوں پر چھاپے پڑ گئے

Bank Fraud , Aniil Ambani, CBI, ED investigation, Enforcement Directorate of India, State Bank of India , Ambani Family, Reliance communications bank fraud
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

سٹی42: بڑے صنعتکار کے گھر اور کئی ٹھکانوں پر چھاپے پڑ گئے۔ 17 ہزار کروڑ کے بینک فراڈ کا معاملہ ہیڈلائنز میں آ گیا۔

پڑوسی ملک کے بڑے صنعتکار انل امبانی کے گھر اور کئی  دوسرےٹھکانوں پر  سنٹرل بیورو آف انویسٹیگیشن سی بی آئی کے چھاپے میڈیا کی ہیڈلائنز بن گئے۔ یہ  17 ہزار کروڑ روپے کے بینک فراڈ کا معاملہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انیل امبانی پر ایف آئی آر درج ہو چکی ہے۔ انیل امبانی مکیش امبانی کے بھائی اور خود بڑے صنعتکار ہیں۔ مکیش امبانی کو بھارت کا سب سے دولتمندانسان مانا جاتا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق انل امبانی کے گھر پر صبح 7 بجے سی بی آئی کے افسروں نے  چھاپی مارا اور گھر کے ہر حصے میں تلاشی مہم شروع کی۔ اس دوران انل امبانی اپنے کنبہ کے ساتھ گھر میں موجود تھے۔ اس سے پہلے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ای ڈی نے بھی انل امبانی کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔
  

Caption   سماجی اور صحافتی حلقوں میں انل امبانی کاذکر بھارت کے طاقتور ترین بزنس مین کی حیثت سے کیا جاتا ہے۔ 


ایک کے بعد دوسری تفتیش؛ امبانی کی مشکلیں بڑھ گئیں
انل امبانی کی مشکلیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں۔ ای ڈی کے بعد اب سی بی آئی 17000 کروڑ روپے کے بینک دھوکہ دہی معاملے میں " آر کام"  اور انل امبانی سے جڑے مقامات کی تلاشی لے رہی ہے۔ سی بی آئی کی ٹیم ہفتہ کی صبح 7 بجے سے انل امبانی کے گھر پر چھاپہ مارنے کے لیے پہنچی۔ سی بی آئی کے 7 سے 8 افسر تلاشی تلاشی کی اس مہم میں شامل رہے۔
کف پریڈ سیونڈ واقع انل امبانی کی رہائش پر صبح قریب 7 بجے سی بی آئی افسر پہنچے اور تلاشی مہم شروع کی۔ انل امبانی اپنے کنبہ کے ساتھ گھر میں موجود  تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انل امبانی کے خلاف بینک سے جڑے دھوکہ دہی معاملے میں ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔

سی بی آئی کو کس دستاویز کی تلاش ہے

سی بی آئی کی اس کارروائی کے بعد کہا جا رہا ہے کہ انل امبانی کی مشکلیں اور بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق سی بی آئی جانچ میں انل امبانی کے گھر پر اور دیگر مقامات پر بینک قرض معاملے کو لے کر دستاویز ات کھنگالی جا رہی ہیں۔ سی بی آئی خاص طور سے، یس بینک اور انل امبانی کی کمپنیوں کے درمیان ہوئے پیسوں کی لین دین سے متعلق دستاویز تلاش کر رہی ہے۔

ریلائنس کمیونیکیشن (آڑ سی) پر بینک فراڈ کا مقدمہ
 سی بی آئی نے ریلائنس کمیونکیشنس کے خلاف مبینہ طور بینک دھوکہ دہی کا معاملہ درج کیا ہے۔ اس دھوکہ دہی کی وجہ سے سٹیٹ بینک آف انڈیا کو 2 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہونے کا دعویٰ ہے۔

 اب اس معاملے میں سی بی آئی کی ٹیم کمپنی کے کئی ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کر رہی ہے۔ یکم اگست کو ہی انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ (ای ڈی) نے مبینہ طور پر 17000 کروڑ روپے کے قرض دھوکہ دہی معاملے میں جانچ کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے انل امبانی کو طلب کیا تھا۔

ریلائنس امپائر پر بُرا وقت؛ شئیرز کی قیمت گرنےلگی

دوسری طرف انل امبانی کے مالکانہ حق والے ریلائنس انفراسٹرکچر اور ریلائنس پاور کے شیئر گزشتہ ایک مہینے سے دباؤ میں ہیں۔ ریلائنس انفراسٹرکچر کے شیئر گزشتہ ایک مہینے میں 22 فیصد ٹوٹ گئے ہیں۔ وہیں گزشتہ ایک مہینے میں ریلائنس پاور کے شیئروں میں بھی 22 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ حالانکہ ریلائنس انفراسٹرکچر کو حال ہی میں نورتن کمپنی این ایچ پی سی سے ایک بڑا آرڈر ملا ہے۔ وہیں ریلائنس پاور کی ایک معاون اکائی نے بھوٹان میں جوائنٹ وینچر بنایا ہے۔

انٹرنیشنل نیوز ایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی تحقیقاتی ادارے نے کہا ہے کہ بھارت کے سب سے بڑے بینک کی جانب سے فراڈ کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد انیل امبانی اور ان کی کمپنی کے خلاف کریمنل کیس کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ سٹیٹ بینک آف انڈیا نے انیل امبانی اور ریلائنس کمیونیکیشنز پر فراڈ کے ذریعے 30 ارب بھارتی روپے (344 ملین ڈالر) کا نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔

بھارت کے سینٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن نے بیان میں کہا کہ ممبئی میں واقع انیل امبانی کے گھر اور ریلائنس کمیونیکیشنز کے دفاتر پر چھاپہ مارا گیا اور تلاشی لی گئی ہے اور کمپنی اس وقت دیوالیہ ہوگئی ہے۔

ایجنسی نے بتایا کہ انیل امبانی اور اس کی کمپنی نے بینک کے فنڈز کا غلط استعمال کیا اور فنڈ طے شدہ معاہدے کے برخلاف دوسری جگہ استعمال کیا۔

امبانی اور ریلائنس کمیونیکیشنز کے ترجمان نے اس حوالے سے رابطے کے باوجود ردعمل نہیں دیا۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ انڈیا کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے بھی ریلائنس گروپ سے جڑے 35 مقامات کی تلاشی لی تھی، سرکاری ذرائع نے بتایا تھا کہ یہ چھاپے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ اور سرکاری فنڈ کی منتقلی سے متعلق تفتیش کا حصہ تھے۔

ریلائنس گروپ نے میڈیا کو کوئی بیان نہیں دیا لیکن گروپ کے ذرائع نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔